مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 617 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 617

وہ اپنے ایمان کو اس کمال کے درجہ تک پہنچائیں۔جس تک مجرد عقل کی پیروی سے انسان پہنچ نہیں سکتا۔مثلاً خدا تعالیٰ میں جو صفت غیب دانی ہے اگرچہ عقلی طور پر انسان یہ خیال کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے لیکن ربّانی کتاب میں شہودی طور پر اس بات کا ثبوت دینا از بس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ حقیقت میں غیب دان ہے اور وہ ثبوت اس طرح پر میسر آ سکتا ہے کہ ربّانی کتاب میں بہت سی پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ درج ہوں جو لوگوں کے سامنے پورے ہو چکے ہوں۔علیٰ ہذا القیاس خدا تعالیٰ کا قادر ہونا اور اپنے نبیوں اور مرسلوں کا حامی اور ناصر اور مؤید ہونا اگرچہ عقلی طورپر بھی ضروری اور محمود سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام مشہودی طور پر اپنی قدرتِ کاملہ اور حمایت اور نصرتِ خاصہ کا ایسا عمدہ اور کامل نمونہ دکھلائے جس کو لوگ دیکھ کر اپنے ایمان اور اعتقاد پر قوی ہو جائیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی دوسری صفات بھی اس طورپر خدا تعالیٰ کے کلام میں ثابت ہونی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ذات اور صفات کے پہچاننے کے لئے ایک نہایت صاف اور شفاف آئینہ ہے جو ہم عاجز اور بے خبر بندوں کو اس غرض سے عنایت ہوا ہے کہ تا ہماری معرفت صرف عقلی اور قیاسی خیالات تک محدود نہ رہے۔بلکہ ہم اُن تمام پاک صداقتوں کو بچشم خود دیکھ بھی لیں کیونکہ اگر خدا تعالیٰ نے صرف اس قدر ہم کو بذریعہ اپنی کتاب کے معرفت اور بصیرت عنایت کرے جس قدر بذریعہ عقل بھی ہم کو حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ربّانی تعلیم اور عقلی تفہیم میں کیا فرق رہا؟ اور اس بات میں خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لانے والوںکو برہمو سماج والوں پر (جو صرف عقلی اٹکلوں پر چلتے ہیں) کونسی ترجیح ہوئی؟ سو اِس تحقیق سے بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں عمدہ خوبی یہی ہے کہ جن صداقتوں کو ہماری عقل ناقص صرف قیاسی طور پر پیش کرتی ہے۔اُن صداقتوں کو خدا تعالیٰ کا کلام ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر دکھلا بھی دیتا ہے۔مثلاً جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے کہ عقل یہ تجویز بیان کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے۔سو خدا تعالیٰ کا کلام صدہا پیشگوئیوں سے جو صحیح طور پر پوری ہوگئیں ہم پر اس صداقت کو یقینی اور قطـعی طور پر کھول دیتا ہے لیکن وید اس مرتبہ اعلیٰ سے جو خدا کی ذات اور صفات کا آئینہ ہو سکے۔ہزاروں کوس دور اور مہجور ہے بلکہ مجرد عقلی طور سے بھی خدا اور اُس کی صفات کا ثبوت دینے سے ویدعاجز ہے کیونکہ وید کا پہلا اصول یہ ہے کہ عالم بجمیع اجزا انادی