مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 618 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 618

یعنی قدیم اور غیر مخلوق اور پرمیشر کی طرح واجب الوجود ہے۔اور پرمیشر نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی اُس کو طاقت اور لیاقت ہے بلکہ اُس کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ بعض چیزوں کو بعض سے جوڑتا ہے مثلاً جسم کا قالب بنا کر روح کو اس میں داخل کر دیتا ہے یا کبھی قالب سے روح کو نکال دیتا ہے۔اور یہی تالیف اور تفریق پرمیشر سے ہو سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی اگر پرمیشر کچھ کام کر سکتا ہے تو بس یہی ہے کہ بعض اجزائے عالم کو بعض سے جوڑتا ہے اور کبھی بعض سے بعض کو الگ کر دیتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس اعتقاد میں صرف اتنی ہی خرابی نہیں کہ پرمیشر کو قادر مطلق ہونا چاہئے۔عاجز اور ناتواں سمجھا گیا ہے اور قدیم اور غیر مخلوق ہونے میں کل اجزاء عالَم کے اس کے شریک اور حصہ دار اور بھائی بند ٹھہرائے گئے ہیں اور ہر ایک موجود اپنے اپنے نفس کا آپ مالک قرار دیا گیا ہے گویا پٹی داری گاؤں کی طرح قدامت اور وجوبِ و جود کی جنس پر سب ارواح اور پرمیشر کا برابر اور یکساں دخل اور قبضہ چلا آتا ہے بلکہ ایک بڑی بھاری خرابی وید کے اصول سے یہ پیش آتی ہے کہ عقلی طور پر پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل باقی نہ رہی۔کیونکہ جس حالت میں تمام عالم بجمیع اجزا خود بخود قدیم سے موجود ہے اور پرمیشر کا کام صرف تالیف اور تفریق ہے تو پھر اس سے وجود پرمیشر کا کیونکر ثابت ہو سکے۔بھلا تم آپ ہی غور سے دیکھو اور انصاف کرو کہ اگر دنیا کی تمام چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود کی پیدائش میں پرمیشر کی محتاج نہیں۔تو پھر اُس پر کیا دلیل ہے کہ اپنے تفرق یا اتصال میں پرمیشر کی محتاج ہے۔ظاہر ہے کہ ماسوا اللہ کے وجود سے صانعِ عالَم کے وجود پر اسی وجہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ماسوا اللہ کا وجود خود بخود ہونا بہ بداہت عقل محال ہے اور جس حالت میں یہ تسلیم کیا جائے اور قبول کیا جائے کہ ماسوا اللہ بھی خود بخود ہو سکتا ہے تو عقل کو خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین کرنے کیلئے کون سی راہ باقی رہے گی؟ کیا ایسے ایسے ناپاک اعتقادوں سے دہریہ مذہب والوں کو مدد نہیں پہنچے گی؟ غرض یہ وید کی ایک ایسی فاش غلطی ہے کہ اس کے تابعین کو اُس کے جواب میں کوئی بات بن نہیں آتی۔اور وہ لوگ کسی طور سے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل بیان نہیں کر سکتے اور کیوں کر بیان کر سکیں جب آپ ہی پرمیشر کی طرح قدیم اور واجب الوجود ٹھہرے تو پرمیشر سے اُن کو کیا تعلق اور غرض رہی اور اُس کے وجود کی کونسی ضرورت اور حاجت رہی۔