مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 612
مکتوب نمبر۵۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ عنایت نامہ پہنچا۔عاجز بدل و جان حضرت خداوندکریم سے آپ کے لئے دعا مانگتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کو خوش رکھے۔جس قدر انسان عالی ہمت اور صابر ہوتا ہے۔اُسی قدر تکالیف سے آزمایا جاتا ہے۔بیگانہ جس میں زہر کا تخم ہے، اس لائق ہرگز نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اُس کو ایسے ابتلا میں ڈالے جس میں صادقوں کو ڈالتا ہے۔سو مبارک وہی ہیں جن کوخدا درجات عطا کرنے کیلئے دنیا کی تلخیوں کا کچھ مزہ چکھاتا ہے۔دنیا کی حالت یکساں نہیں رہتی جس طرح دن گزر جاتا ہے۔آخر رات بھی اسی طرح گزر جاتی ہے۔سو جو شخص خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ مصیبت کی رات کو ایسی کاٹتا ہے جیسے کوئی سونے کی حالت میں رات کو کاٹتا ہے اگر پروردگار ایمان کو بچائے رکھے تو مصیبت کچھ چیز نہیں لیکن اگر مصیبت کچھ لمبی ہو اور مدد ایمانی منقطع ہو جائے تو نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔یہ عاجز تو حضرت خداوندکریم سے امید بھی رکھتا ہے کہ آپ کے ہموم و غموم بفضلہ تعالیٰ دور ہوں اور اجر حاصل اور غم زائل ہو۔اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔چند اشتہارات ارسالِ خدمت ہیں۔والسلام ۹؍جون ۱۸۸۵ء۔۲۴ ؍ شعبان ۱۳۰۲ھ