مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 611
ہیں جو آپ سے مباحثہ کرنے کو تیار ہیں۔میں جس امر میں مامور ہوچکا ہوں اُس سے زیادہ نہیں کر سکتا اور اگر مباحثہ بھی مجھ سے منظور ہے تو آپ میری کتاب کا جواب دیں۔یہ صورت مباحثہ کی عمدہ ہے اور اس میں معاوضہ بھی زیادہ ہے اور بجائے چوبیس سَو روپیہ کے دس ہزار روپیہ۔٭ ۳۰؍ مئی ۱۸۸۵ء مکتوب نمبر۵۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ آںمخدوم کی روح کو اس عاجز کی روح سے بشدت مناسبت ہے اسی وجہ سے تعلقات روحانی کا غلبہ ہے اور اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰیآپ کی حالت کاملہ ابتلا کے خطرات سے امن میں ہے۔یہ عاجز بوجہ قلت فرصت تحریر جواب سے قاصر رہا اور مستعد تحریر تھا کہ اسی میں خط پہنچ گیا۔دہلی کی طرف جانے کے لئے ابھی کچھ معلوم نہیں۔ہندوستان میں اکثر اطراف بیماری بہت پھیل رہی ہے۔اگر کسی وقت بطریق عجلت سفر اُس طرف کا پیش آیا تب تو مجبوری ہے ورنہ بہر طرح خواہ ایک ساعت کے لئے ہو، اِنْ شَائَ اللّٰہُ ملاقات آںمخدوم کی ہوگی۔آگے ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔پردہ غیب میں جو کچھ مخفی ہے کسی کو اس پر اطلاع نہیں۔آںمخدوم اپنی اصلی صحت پر آگئے ہوں تو اطلاع بخشیں۔۴؍ جون ۱۸۸۵ء مطابق دہم رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ