مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 44

مکتوبات احمد ママ جلد اول گفتگو آریہ سماج کے اصول پر ہے۔ سوا اس کے اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ آریہ سماج کا بھی یہی اصول ہے تو پھر بھی کیا فائدہ کہ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے تو صرف اتنا نکلتا ہے کہ مخلوقات خدا تعالیٰ کی بکثرت ہے۔ ارواح کے بے انت ہونے سے اس دلیل کو کیا علاقہ ہے۔ پر شاید باوا صاحب کے ذہن میں مثل محاورہ عام لوگوں کے یہ سمایا ہوا ہوگا کہ بے انت اُسی چیز کو کہتے ہیں جو بکثرت ہو۔ باوا صاحب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں یہ سب اجسام ارضی اور اجرام سماوی بموجب تحقیق فن ہئیت اور علم جغرافیہ کے معدود اور محدود ہیں ۔ تو پھر جو چیز یں ان میں داخل ہیں کس طرح غیر محدود ہو سکتی ہیں اور جس صورت میں تمام اجرام واجسام زمین و آسمان کے خدا نے گئے ہوئے ہیں تو پھر جو کچھ ان میں آباد ہے وہ اس کی گنتی سے کب باہر رہ سکتا ہے؟ سوایسے دلائل سے آپ کا دعوی ثابت نہیں ہوتا۔ کام تو تب بنے کہ آپ یہ ثابت کریں کہ ارواح موجودہ تمام حدود و قیود و ظروف مکانی و زمانی اور فضائے عالم سے بالاتر ہیں ۔ کیونکہ خدا بھی انہیں معنوں پر بے انت کہلاتا ہے۔ اگر ارواح بے انت ہیں تو وہی علامات ارواح میں ثابت کرنی چاہئیں ۔ اس لئے کہ بے انت ایک لفظ ہے کہ جس میں بقول آپ کے ارواح اور باری تعالیٰ مشارکت رکھتے ہیں اور اس کا حد تام بھی ایک ہے ۔ یہ بات نہیں کہ جب لفظ بے انت کا خدا کی طرف نسبت کیا جائے تو اس کے معنی اور ہیں اور جب ارواح کی طرف منسوب کریں تو اور معنی ۔ پھر بعد اس کے باوا صاحب فرماتے ہیں کہ کسی نے آج تک روحوں کی تعداد نہیں کی ۔ اس لئے لاتعداد ہیں ۔ اس پر ایک قاعدہ حساب کا بھی جو مَا نَحْنُ فِيهِ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا، پیش کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ لا تعداد کی کمی نہیں ہو سکتی ۔ پس با وا صاحب پر واضح رہے کہ ہم تخمینی اندازہ ارواح کا بموجب اصول آپ کے بیان کر چکے ہیں اور اُن کا ظروف مکانی اور زمانی میں محدود ہونا بھی بموجب انہی اصول کے ذکر ہو چکا ہے اور آپ اب تک وہ حساب ہمارے رو برو پیش کرتے ہیں جو غیر معلوم اور نامفہوم چیزوں سے متعلق ہے۔ اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خزانچی کو اپنی جمع تحویل شدہ کا کل میزان روپیہ آ نہ پائی کا معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان کو گل تعداد ارواح کا معلوم ہو تو تب قابل کمی ہونگے ، ورنہ نہیں ۔ سو یہ بھی آپ کی غلطی ہے۔ کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ جس چیز کا اندازہ تخمینی کسی پیمانہ کے ذریعہ سے ہو چکا تو پھر ضرور عقل یہی تجویز