مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 45

کرے گی کہ جب اُس اندازہ معلومہ سے نکالا جاوے تو بقدر تعداد خارج شدہ کے اصلی اندازہ میں کمی ہو جائے گی۔بھلا یہ کیا بات ہے کہ جب مکتی شدہ سے ایک فوج کثیر مکتی شدہ ارواح میں داخل ہو جائے تو نہ وہ کچھ کم ہوں اور نہ یہ کچھ زیادہ ہوں۔حالانکہ وہ دونوں محدود ہیں اور ظروف مکانی اور زمانی میں محصور۔اور جو یہ باوا صاحب فرماتے ہیں کہ تعداد روحوں کی ہم کو بھی معلوم ہونی چاہئے تب قاعدہ جمع تفریق کا اُن پر صادق آوے گا۔یہ قول باوا صاحب کابھی قابل ملاحظہ ناظرین ہے، ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جمع بھی خدا نے کی اور تفریق بھی وہی کرتا ہے اور اُس کو ارواح موجودہ کے تمام افراد معلوم ہیں اور فرد فرد اس کے زیر نظر ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک روح نکل کر مکتی یابوں میں ہو جاوے گی تو پرمیشور کو معلوم ہے کہ یہ فرد اس جماعت میں سے کم ہو گیا اور اُس جماعت میں بباعث داخل ہونے اس کے ایک فرد کی زیادتی ہوئی۔یہ کیا بات ہے کہ اس داخل خارج سے وہی پہلی صورت بنی رہی۔نہ مکتی یاب کچھ زیادہ ہوں اور نہ وہ ارواح کہ جن سے کچھ روح نکل گئی بقدر نکلنے کے کم ہو جائیں۔او رنیز ہم کو بھی کوئی برہان منطقی مانع اس بات کے نہیں کہ ہم اس امر متیقن متحقق طور پر رائے نہ لگا سکیں کہ جن چیزوں کا اندازہ بذریعہ ظرف مکانی اور زمانی کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے وہ دخول و خروج سے قابل زیادت اور کمی ہیں۔مثلاً ایک ذخیرہ کسی قدر غلہ کا کسی کوٹھے میں بھرا ہوا ہے اور لوگ اس سے نکال کر لے جاتے ہیں سو گو ہم کو اُس ذخیرہ کا وزن معلوم نہیں لیکن ہم بہ نظر محدود ہونے اس کے کے رائے دے سکتے ہیں کہ جیسا نکالا جائے گا کم ہوتا جائے گا۔اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ خدا کا علم غیر محدود ہے اور روح بھی غیر محدود ہیں اسی واسطے خدا کو روحوں کی تعداد معلوم نہیں یہ آپ کی تقریر بے موقع ہے۔جنابِ من! یہ کون کہتا ہے کہ جو خدا کا علم غیر محدود نہیں۔کلام و نزاع تو اس میں ہے کہ معلومات خارجیہ اس کے جو تعینات وجود یہ سے مقید ہیں اور زمانہ واحد میں پائے جاتے ہیں اور ظروف زمانی و مکانی میں محصور اور محدود ہیں، آیا تعداد اُن اشیاء موجودہ محدودہ معینہ کا اس کو معلوم ہے یا نہیں؟ آپ اُن اشیاء موجودہ محدودہ کو غیر موجود اور غیرمحدود ثابت کریں تو تب کام بنتا ہے۔ورنہ علم الٰہی کہ موجود اور غیر موجود دونوں پر محیط ہے اس کے غیر متناہی ہونے سے کوئی چیز جو تعینات خارجیہ میں مفید ہو غیر متناہی نہیں بن سکتی۔اور آپ نے