مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 602
مکتوب نمبر۴۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آپ نے جو اسی عنایت نامہ مرقومہ ۲۹؍ فروری ۸۴ء میں ایک سوال تحریر فرمایا تھا۔آج تک میں نے بباعث علالت طبع اُس کی طرف توجہ نہیں کی اور اب بھی بباعث ضعف دماغ و دردِ سر طبیعت حاضر نہیں ہے لیکن جو آںمخدوم کا وہ خط دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سوال صرف ایک نزاعِ لفظی ہے کیونکہ جس مرتبہ توحید کو آںمخدوم ابتدائی مرتبہ تصور فرماتے ہیں وہ مرتبہ اس عاجز کے نزدیک ان معنوں کر کے انتہائی مرتبہ توحید کا ہے کہ وہ سِیَرِ اولیاء کا منتہا اور آخری حد ہے۔جس سے فنائے اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے۔اگرچہ درگاہ احدیّت بے نہایت ہے لیکن جس کمال توحید کو انسان اپنے مجاہدہ سے، اپنی کوشش سے، اپنے تزکیہ نفس سے، اپنے سیر و سلوک سے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہیں تک ہے پھر بعد اس کے مخفی تفضّلاتِ الٰہیہ اور مواہب لدنیہ ہیں جن تک کوششوں کو راہ نہیں۔ساری کوششیں اور محنتیں صرف اس حد تک ہیں کہ انسان اپنے نفس اور تمام خلق کو ہیچ اور لاشَے سمجھ کر اور اپنے ہوا اور ارادہ سے باہر ہو کر بکلّی خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے اور اپنی ناچیز ہستی، بشہود ہستی حقیقی حضرت باری تعالیٰ کے نابود اور معدوم دکھائی دے۔اور جیسا فی الواقعہ انسان محبت وجود حضرت قادر مطلق کے ہیچ اور ناچیز ہے ایسی ہی حالت پیدا ہو جائے گویا اب بھی وہ نیست ہے جیسا پہلے نیست تھا۔سو یہ مرتبہ عبودیت کی آخری حد ہے اور یہی اس توحید کا انتہائی مقام ہے کہ جو سعی اور کوشش اور سیرو سلوک سے حاصل کرنا چاہئے۔یہ سچ ہے کہ بعد اس کے مرتبہ سیر فی اللہ ہے۔لیکن اس مرتبہ کے حصول کے لئے کوششوں کو دخل نہیں بلکہ یہ محض بطریق فضل اور موہبت کے حاصل ہوتا ہے اور کوششیں صرف اُسی مرتبہ فنا تک ختم ہو جاتی ہیں کہ جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔مثلاً ایک شخص کئی منزلیں طَے کر کے بادشاہ کے ملنے کیلئے آیا ہے اور جس قدر راہ میں موانع تھے۔سب سے خلاصی پاکر بادشاہ کے خیمہ تک پہنچ گیا ہے اب خیمہ کے اندر جانا اُس کا کام نہیں ہے بلکہ وہ اپنا کام سب کر چکا ہے اور خیمہ میں داخل کرنا اور بارگاہ میں دخل دینا یہ خاص بادشاہ کا کام ہے کہ جو ایک خاص اجازت