مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 599
مکتوب نمبر۴۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ٗ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آںمخدوم کا عنایت نامہ بذریعہ محمد شریف صاحب مجھ کو ملا۔سو آپ کو میں اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے حصہ سوئم و چہارم بخدمت علماء دہلی بھیج دیئے ہیں۔آپ نے جو لکھا ہے کہ چوتھے حصہ کے صفحہ ۴۹۶ پر مخالف اعتراض کرتے ہیں۔آپ نے مفصل نہیں لکھا کہ کیا اعتراض کرتے ہیں۔صرف آپ نے یہ لکھا ہے کہ یَامَرْیَمُ اسْکُنْمیں نحوی غلطی معلوم ہوتی ہے۔اُسْکُنْ کی جگہ اُسْکُنِیْ چاہئے تھا۔سو آپ کو میں مطلع کرتا ہوں کہ جس شخص نے ایسا اعتراض کیا ہے اس نے خود غلطی کھائی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ نحو اور صرف سے آپ ہی بے خبر ہے کیونکہ عبارت کا سیاق دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ مریم سے مریم اُمِّ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے اب جب کہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کیلئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یَامَرْیَمُ اسْکُنْ ۱؎ کہا جائے نہ یہ کہ یَا مَرْیَمُ اسْکُنِیْ۔ہاں اگر مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد ہوتی تو پھر اس جگہ اُسْکُنِیْ آتا لیکن اس جگہ تو صریح مریم مذکر کا نام رکھا گیا۔اس لئے برعایت مذکر، مذکر کا صیغہ آیا اور یہی قاعدہ ہے جو نحویوں اور صرفیوں میں مسلّم ہے اور کسی کو اس میں اختلاف نہیں ہے اور زَوج کے لفظ سے رفقاء اور اقرباء مراد ہیں۔زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے اور یہ عاجز اس الہام میں کوئی جائے گرفت نہیں دیکھتا۔۲۱؍فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۲؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۵۵