مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 600 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 600

مکتوب نمبر۴۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا یہ عاجز یہ دعا کرتا ہے کہ خداوندکریم اپنے فضل و کرم سے آں مخدوم کی عمر میں برکت بخشے۔زیادہ تر اس بات میں کوشش کرنی چاہئے کہ کسی طرح مولیٰ کریم راضی ہو جائے۔ہر یک سعادت اس کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔دنیا میں جو کچھ انسان رسوم کے طور پر کرتا ہے وہ کچھ چیز نہیں ہے۔مگر جو کچھ خالصاً مرضات اللہ کے حاصل کرنے کیلئے صدق قدم سے کیا جاتا ہے وہ عملِ صالح ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے۔خداوندکریم عملِ صالح سے راضی ہو جاتاہے اور قرب حضرت احدیّت حاصل ہوتا ہے مگر جس طرح شراب کے آخری گھونٹ میں نشہ ہوتا ہے اسی طرح عمل صالح کے برکات اُس کی آخری خیر میں مخفی ہوتے ہیں۔جو شخص آخر تک پہنچتا ہے اور عمل صالح کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے وہ اُن برکات سے متمتع ہو جاتا ہے لیکن جو شخص درمیان سے ہر عمل صالح کو چھوڑ دیتا ہے اور اُس کو اپنے کمال مطلوب تک نہیں پہنچاتا، وہ اُن برکات سے محروم رہ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باوجود اس کے کہ کچھ کچھ عملِ صالح بجا لاتے ہیں مگر برکات ان اعمال کے ان میں نمایاں نہیں ہوتے کیونکہ جب تک کوئی میوہ خام ہے وہ پختہ اور رسیدہ میوہ کی لذت نہیں بخش سکتا۔سب برکتیں کمال میں ہیں اور عمل ناتمام میں کوئی برکت نہیں بلکہ بسا اوقات ناقص العمل انسان کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جاتا ہے اور اُن لوگوں میں جا ملتا ہے کہ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ہیں۔سو حقیقی طور پر عملِ صالح اس عمل کو کہا جاتا ہے کہ جو ہر یک قسم کے فساد سے محفوظ رہ کر اپنے کمال کو پہنچ جائے اور اپنے کمال تک کسی عملِ صالح کا پہنچنا اس بات پر موقوف ہے کہ عامل کی ایسی نیت صالح ہو کہ جس میں بجز حق ربوبیت بجا لانے کے کوئی اور غرض مخفی نہ ہو یعنی صرف اُس کے دل میں یہ ہو کہ وہ اپنے ربّ کی اطاعت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور گو اطاعت بجالانے پر ثواب مترتب یا عذاب مترتب ہو اور گو اُس کا نتیجہ آرام اور راحت ہو یا نکبت اور عقوبت