مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 580 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 580

کی ہستی کیا حقیقت ہے لیکن اُس نے یہ نہیں چاہا بلکہ توقف اور آہستگی سے کام کرنا چاہا ہے۔سب کچھ وہی کرتا ہے۔وہ دوسرا کون ہے جو اُس کا حارج ہو رہا ہے۔بارہا اس عاجز کو حضرت احدیّت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجۂ قدرت احدیّت میں مقہور اور مغلوب ہے اور تصرفات الٰہیہ زمین و آسمان میں کام کر رہے ہیں۔چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔اِنْ تَمْسَسْکَ بِضُرٍّ فَـلَا کَاشِفَ لَہٗ اِلاَّ ھُوَ۔وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَـلَا رَآدَّلِفَضْلِہٖ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ لَاٰتٍ۔۱؎ سو خدا تعالیٰ اپنے کلمات مقدسہ سے اس قدر اس عاجز کو تقویت دیتا ہے کہ پھر اُس کے غیر سے نہ کچھ خوف باقی رہتا ہے اور نہ اس کو امیدگاہ بنایا جاتا ہے۔جب یہ عاجز اپنے معروضات میں لطف اور لذیذ کلمات میں جواب پاتا ہے اور بسا اوقات ہر سوال کے بعد جواب سنتا ہے اور کلمات احدیّت میں بہت سے تلطّفات پاتا ہے تو تمام ہموم و غموم بکلّی دل سے دور ہو جاتے ہیں اور جیسے کوئی نہایت تیز شراب سے مست اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتا ہے ایسی ہی حالت سرور کی طاری ہوتی ہے۔جس میں دوسرے ہموم و غموم تو کیا چیز ہیں موت بھی کچھ حقیقت نظر نہیں آتی۔خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھول دیا ہے کہ زید و عمر کچھ چیز نہیں۔ہر ایک کام اُس کے اختیار میں ہے۔پھر جب کہ ایسا ہے تو دوسروں کی شکایت عبث ہے۔اس عاجز پر جو کچھ تفضّلات و احسانات حضرت خداوندکریم ہیں وہ حدّوشمار سے خارج ہیں کیونکہ یہ اَذلِّ عباد اپنی ذاتی حیثیت میں کچھ بھی چیز نہیں اور بغیر اُس کے کہ تکلف سے کوئی کسر نفسی کی جائے فی الحقیقت سخت درجہ کاناکارہ اور ہیچ ہے۔نہ زاہدوں میں سے ہے نہ عابدوں میں سے، نہ پارساؤں میں سے نہ مولویوں میں سے۔سخت حیران ہے کہ کس چیز پر نظر عنایت ہے۔یَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ۔۲۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ ذِی الحجہ ۱۳۰۰ھ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۸۹