مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 580
مکتوبات احمد ۵۸۰ جلد اول کی ہستی کیا حقیقت ہے لیکن اُس نے یہ نہیں چاہا بلکہ توقف اور آہستگی سے کام کرنا چاہا ہے۔ سب کچھ وہی کرتا ہے ۔ وہ دوسرا کون ہے جو اُس کا خارج ہو رہا ہے ۔ بارہا اس عاجز کو حضرت احدیت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجۂ قدرت احدیت میں مقہور اور مغلوب ہے اور تصرفات الہیہ زمین و آسمان میں کام کر رہے ہیں ۔ چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا ۔ اِنْ تَمْسَسْكَ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ - وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ لَات لیے سوخدا تعالیٰ اپنے کلمات مقدسہ سے اس قدر اس عاجز کو تقویت دیتا ہے کہ پھر اُس کے غیر سے نہ کچھ خوف باقی رہتا ہے اور نہ اس کو امید گاہ بنایا جاتا ہے ۔ جب یہ عاجز اپنے معروضات میں لطف اور لذیذ کلمات میں جواب پاتا ہے اور بسا اوقات ہر سوال کے بعد جواب سنتا ہے اور کلمات احدیت میں بہت سے تلطفات پاتا ہے تو تمام تمام هموم و عموم بکلی دل سے دور ہو جاتے ہیں اور اور جے جیسے کوئی نہایت تیز شراب سے مست اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتا ہے ایسی ہی حالت سرور کی طاری ہوتی ہے ۔ جس میں دوسرے ہموم و عموم تو کیا چیز ہیں موت بھی کچھ حقیقت نظر نہیں آتی ۔ خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھول دیا ہے کہ زید و عمر کچھ چیز نہیں ۔ ہر ایک کام اُس کے اختیار میں ہے ۔ پھر جب کہ ایسا ہے تو دوسروں کی شکایت عبث ہے ۔ اس عاجز پر جو کچھ تفضلات و احسانات حضرت خداوند کریم ہیں وہ حد و شمار سے خارج ہیں کیونکہ یہ اذل عباد اپنی ذاتی حیثیت میں کچھ بھی چیز نہیں اور بغیر اس کے کہ تکلف سے کوئی کسر نفسی کی جائے فی الحقیقت سخت درجہ کا ناکارہ اور پیچ ہے ۔ نہ زاہدوں میں سے ہے ہے کہ کس چیز پر نہ عابدوں میں سے ، نہ پارساؤں میں سے نہ مولویوں میں سے ۔ سے ۔ سخت حیران ہے کہ نظر عنایت ہے ۔ يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ۔ ۲۹ راکتو بر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷ / ذی الحجہ ۱۳۰۰ھ لے تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۸۹