مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 569 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 569

خدا نے اُس کو اپنی ذات سے تعلق شدید بخشا ہے اور وہ ہر ایک وقت اور حال سے فارغ ہے کیونکہ بجائے اُس کے عنایت الٰہیہ کام کر رہی ہے اور وہ مست اور مدہوش کی طرح پڑا ہے اور تمام آلام اُس کے حق میں بصورت انعام ہوگئے ہیں۔صوفی میں اجر کی خواہش ہے۔اُس میں اجر کی خواہش نہیں۔صوفی معمور الاوقات ہے اور وہ فانی الذات ہے۔پھر معموری کیا اور وقت کیا۔صیقل زدم آں قدر کہ آئینہ نماند۔اس تحقیق میں دوسرے سوال کا جواب بھی آ گیا۔(۳) موسیٰ اور فرعون سے روح اور نفسِ امّارہ کا جنگ و جدال مراد ہے جو نور روح ہے جس کو نورِ قلب بھی کہتے ہیں۔وہ ہر وقت قَالُوا بَلٰی کا نعرہ مار رہا ہے اور بارگاہ خدا میں اپنی لذت اور سرور چاہتا ہے اور موسیٰ کی طرح شرور کا دشمن ہے اور نفسِ امّارہ شرور کا خواہاں ہے اور شہوات کا طالب۔ان دونوں میں موسیٰ اور فرعون کی طرح جنگ ہو رہا ہے۔یہ جنگ اسی وقت تک رہتا ہے جب انسان اپنی ہستی کو مقصود ٹھہرا کر فنا فی اللہ کی حالت سے گرا ہوا ہوتا ہے لیکن جب انسان اپنی ہستی سے بالکل کھویا جاتا ہے تو وہ پہلی بیرنگی جو عالم ہستی میں اُس کو حاصل تھی پھر حاصل ہو جاتی ہے اور کوئی شائبہ وجود کا باقی نہیں رہتا۔اس مرتبہ پر نفسِ امّارہ اور نور قلب کا جنگ ختم ہو جاتا ہے اور شہوات نفسانی حظوظ کا حکم پیدا کر لیتی ہیں اور فانی کا کھانا پینا، ازدواج متعددہ کرنا وغیرہ امور جائے اعتراض نہیں ٹھہرتا اور نہ کچھ اُس کو ضرر کرتا ہے کیونکہ وہ فانی ہے اور اب یہ کام خدا کے ہیں جو اُس پر جاری ہوتے ہیں۔سو اِس مقام پر آ کر موسیٰ اور فرعون کی صلح ہو جاتی ہے۔(۴) حرص و ہوا سے اوّل چیز جو انسان کو روکتی ہے جذبہ الٰہی ہے۔وہی جذبہ انسان کو صالحین کی صحبت کی طرف کھینچتا ہے۔وہی اُس کو کسی صالح کا مرید کراتا ہے۔صحیح حدیث میں وار دہے کہ انسان گناہ کرتا ہے۔پھر حضرت خداوندی میں روتا ہے کہ مجھ سے گناہ ہو گیا۔خدا تعالیٰ اُس کو بخش دیتا ہے اور اپنے فرشتوں کے روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے۔پھر چند روز پا کر اُس بندہ عاجز سے گناہ ہو جاتا ہے۔پھر وہ جناب الٰہی میں روتا اور چلاتا ہے اور ہر بار خدا تعالیٰ اُس کو بخشتا جاتا ہے اور فرشتوں کے روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے۔آخر اُس کو کہتا ہے اِعْمَلْ مَاشِئْتَ فَاِنِّیْ غَفَرْتُ لَکَ۔یعنی اب جو تیری مرضی ہے کر مَیں نے تجھ کو بخش دیا ہے سو اُسی روز سے وہ محفوظ ہوتا ہے اور پھر ہوا و ہوس اس پر غالب نہیں ہو سکتے۔غرض جیسے جسمانی پیدائش کی ابتدا خدا ہی کی طرف سے ہے۔