مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 38
مکتوبات احمد ۳۸ جلد اول مکتوب نمبرے جواب الجواب با وانرائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر مطبوعہ پر چه آفتاب ۱۸ فروری از حضرت مرزا غلام احمد رئیس قادیان ) اول باوا صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا روحوں کا خالق ہے اور ان کو پیدا کر سکتا ہے ۔ اس کے جواب الجواب میں قبل شروع کرنے مطلب کے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ از روئے قاعدہ فن مناظرہ کے آپ کا ہرگز یہ منصب نہیں ہوسکتا کہ آپ روحوں کے مخلوق ہونے کا ہم سے ثبوت مانگیں بلکہ یہ حق ہم کو پہنچتا ہے کہ ہم آپ سے روحوں کے بلا پیدائش ہونے کی سند طلب کریں کیونکہ آپ اسی پر چہ مذکور العنوان میں خود اپنی زبان مبارک سے اقرار کر چکے ہیں کہ پرمیشور قادر ہے اور تمام سلسلہ عالم کا وہی منتظم ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ثبوت دینا اس امر جدید کا آپ کے ذمہ ہے کہ پرمیشور اول قادر ہو کر پھر غیر قادر کس طرح بن گیا ، ہمارے ذمہ ہرگز نہیں کہ ہم ثبوت کرتے پھریں کہ پر میشور جو قدیم سے قادر ہے وہ اب بھی قادر ہے۔سوحضرت یہ آپ کو چاہئے تھا کہ ہم کو اس بات کا ثبوت کامل دیتے کہ پرمیشور با وصف قادر ہونے کے پھر روحوں کے پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا ۔ ہم پر یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ پر میشور ( جو قادر تسلیم ہو چکا ہے ) روحوں کے پیدا کرنے کی کس قدر قدرت رکھتا ہے۔ کیونکہ خدا کے قادر ہونے کو تو ہم اور آپ دونوں مانتے ہیں ۔ پس اس وقت تک تو ہم میں اور آپ میں کچھ تنازعہ نہ تھا۔ پھر تنا زعہ تو آپ نے پیدا کیا جو روحوں کے پیدا کرنے سے اس قادر پر میشور کو عاجز سمجھا ۔ اس صورت میں آپ خود منصف ہوں اور بتلائیں کہ بار ثبوت کس کے ذمہ ہے؟ اور اگر ہم بطریق تنزل یہ بھی تسلیم کر لیں کہ اگر چہ دعوی آپ نے کیا مگر ثبوت اس کا ہمارے ذمہ ہے، پس آپ کو مژدہ ہو کہ ہم نے سفیر ہند ۲۱ فروری میں خدا کے خالق ہونے کا ثبوت کامل