مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 550
صرف زبان کے حوالہ کر رکھا ہے اور ہرفعل کی سچائی امتحان سے اس کو نہیں آزماتے اور آنکھ کھول کر نہیں دیکھتے اور دلی اخلاص سے طالب بن کر جستجو نہیں کرتے۔۔۱؎ وَسَلَامٌ عَلَیْکُمْ وَعَلٰی کُلِّ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔٭ یکم اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ رمضان ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر۲۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ھٰذا آں مخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کی حالت میں پہنچا۔خداوند کریم کے تفضّلات اور احسانات کا کہاں تک شکر کروں اور کیونکر اُس کی نعمتوں کا حق بجا لاؤں کہ اس پُر ظلمت زمانہ میں مجھ جیسے غریب، تنہا، بے ہُنر کے لئے آپ جیسے مخلص دوست اُس نے میسر کئے۔سو اُسی سے میں یہ دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو اپنے الطافِ جلیّہ اور خفیّہ سے متمتع کرے اور اپنے توجہات خاصہ سے دستگیری فرماوے اور اپنی طرف انقطاعِ کامل اور تبتّلِ تام بخشے۔آمین ثم آمین۔اور یہ تبتّلِ تام جس کی آپ تشریح دریافت بھی کرتے ہیں۔یہ ایک بڑا مقام اعلیٰ ہے جو بغیر فنائے اَتم کامل طور پر حاصل نہیںہوتا۔بلکہ فی الحقیقت اسی کا نام فنائے اَتم ہے کہ تبتّلِ تام حاصل ہو جائے اور تبتّلِ تام تب حاصل ہوتا ہے کہ جب ہر ایک حجاب کا خرق ہو کر رابطہ انسان کا محبت ذاتی تک پہنچ جائے۔حجاب دو قسم کے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو بدیہی طور پر معلوم ہوتے ہیں اور کچھ نظر اور فکر کی حاجت نہیں۔جیسے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف توجہ کرنا۔مخلوق سے مرادیں اور حاجات مانگنا اور مخلوق کواپنا تکیہ گاہ اور پناہ سمجھنا۔اپنے ننگ اور ناموس اور عزت اور نام کی حفاظت میں مبتلا رہنا اور بجز ایک متصرفِ حقیقی کے کسی سے خوف یا کسی پر کچھ امید رکھنا اور زید وعمر کے وجود کو وجود سمجھنا۔کسی کو کارخانہ ربوبیت کا شریک سمجھ کر حق ربوبیت میں شریک ٹھہرا دینا۔عبادات یا اعتقادات میں کسی کو خدا تعالیٰ کی طرح خیال کرنا۔حضرت باری کے امر اور نہی کو توڑ کر اپنے نفس کی خواہشوں کا تابع ہونا اور نفسِ امّارہ کی ۱؎ الشعرآء: ۲۲۸۔٭ اخبار الحکم نمبر۱۹ جلد۳۔۲۶ مئی ۱۸۹۹ء