مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 549

۔۱؎ ۔۲؎ سچا رہنما قرآن شریف ہے اور اُس کی پیروی اسی جہان میں نجات کے انوار دکھلاتی ہے اور سعادتِ عظمیٰ تک پہنچاتی ہے۔۳؎ جو شخص معارفِ حَقّہ کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کرے اور صرف قیل و قال میں نہ پھنس رہے۔اُس پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ باطنی نعمتوں کے حاصل کرنے کیلئے صرف ایک ہی راہ ہے۔یعنی یہ کہ متابعت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کی جائے اور تعلیم قرآنی کو اپنا مُرشد اور رہبر بنایا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ہندوؤں اور عیسائیوں میں کئی لوگ ریاضت اور جوگ میں وہ محنت کرتے ہیںکہ جس سے اُن کا جسم خشک ہو جاتا ہے اور برسوں جنگلوں میںکاٹتے ہیںاور ریاضاتِ شدیدہ بجا لاتے ہیں۔لذّات سے بکلّی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔مگر پھر بھی وہ انوارِ خاصہ اُن کو نصیب نہیں ہوتے کہ جو مسلمانوں کو باوجود قلّتِ ریاضت و ترک رہبانیت کے نصیب ہوتے ہیں۔پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس کی تعلیم قرآن شریف کرتا ہے۔بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ اگر کوئی توبہ نصوح اختیار کر کے دس روز بھی قرآنی منشاء کے بموجب مشغولی اختیار کرے تو اپنے قلب پر نور نازل ہوتا دیکھے گا۔یہ خصوصیت دین اسلام کی بلا امتحان نہیں۔صدہا پاک باطنوں نے اس راہ سے فیض پایا ہے۔جو لوگ سچے دل سے یہ راہ اختیار کرتے ہیں خدا اُن کو ہرگز ضائع نہیںکرتا۔اور اُن میں وہ انوار پیدا کر دیتا ہے جس سے ایک عالم حیران رہ جاتا ہے۔بجز اس کے سب حجاب ہیں جو اُن لوگوں کو پیش آئے جن کا سلوک کمال تک نہیں پہنچا تھا۔کاش! اگر وہ زندہ ہوتے تو انکی حقیقت باطنی کھل جاتی۔کئی ایسے آدمی ہیں جن کی بیہودہ تعریفیں کی گئی ہیں لیکن کاملوں کا نشان یہی ہے کہ وہ اپنے نبی معصوم کی پوری پوری متابعت اختیار کرتے ہیں اور اُس کی محبت میں محو ہیں۔مسلم اور غیر مسلم میں صریح فرق ہے اور کوئی ایسا طالب نہیں جس پر یہ فرق ظاہر نہ ہو سکے۔پھر مشکل تو یہ ہے کہ بعض لوگ طالب ہی نہیں ہیں۔دُنیا کے لئے کیا کچھ محنت نہیںکرتے۔ایک پیسہ کا مٹی کا برتن بھی دیکھ بھال اور ٹھوک بجا کر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی ٹوٹا ہوا نکلے۔لیکن دین کا کام ۱؎ اٰلِ عمران: ۲۰ ۲؎ اٰلِ عمران: ۸۶ ۳؎ بنی اسراء یل: ۷۳