مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 548 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 548

مکتوب نمبر۲۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ھٰذا عنایت نامہ آن مخدوم پہنچا۔منشی صاحب کے خیالات اگرچہ بہت ہی حیرت انگیز ہیں۔پر اس پُرفتنہ زمانہ میں جائے تعجب نہیں۔خداوندکریم رحم کرے۔منشی صاحب جو ہندوؤں کی کئی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں۔اُن کو یہ بھی خبر نہیں کہ اکثر ان کتابوں میں سے اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکی ہیں اور منوکادہرم شاستر تو سرکاری طور پر بھی ترجمہ ہو کر وکلا کی امتحانی کتابوں میں داخل ہے اور گیتا اُردو میں ترجمہ کی ہوئی موجود ہے اور ایک ہندو نے اُس کو نظم میں بھی کر دیا اور شام وید اور اتھرون وید بھی کچھ پوشیدہ کتابیں نہیں ہیں۔آج کل آریہ سماج والوں کی دستاویز بھی یہی کتابیںہیں اور یہ شام اور اتھرون اور رِگ اور یجر دیانند کے پاس موجود ہیں اور اس کے وید بھاش ماہ بماہ چھپتے ہیں۔ایک طرف انگریزوں نے بھی ویدوں کو انگریزی میں ترجمہ کر دیا ہے۔برہمو سماج والے بھی ویدوں کی حقیقت پر بکلّی ماہر ہیں۔کچھ حصہ وید کا اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے اب کیا ممکن ہے کہ یہ تمام لوگ اتفاق کر کے ایک پیشگوئی جو وید میں صریح وارد ہوچکی تھی چھپاتے؟ ہرگز ممکن نہیں۔وید کے محققوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وید میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں یہاں تک کہ پنڈت دیانند کا مقولہ ہے کہ وید میں رام چندر و کرشن وغیرہ کے پیدا ہونے کی بابت بھی کوئی تذکرہ نہیں اور یہ بات اور بھی عجیب ہے کہ پہلے منشی صاحب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعثت کی خبر ویدوں میں لکھی ہے۔پھر اب یہ دعویٰ ہے کہ وہ خبر پورانوں اور پوتھیوں میں بھی لکھی ہے یہ اچھا ہوا کہ منشی صاحب کو بحث مباحثہ کا شوق نہیں ورنہ پنڈتوں اور انگریزوں اور برہمو سماج والوں کے روبرو بڑی بڑی ندامتیں اُٹھاتے۔اب آپ اس تذکرہ کو طول نہ دیں اور ان کے حق میں دعائے خیر کریں۔اور جو کچھ منشی صاحب نے کلمات الحاد آمیز لکھے ہیں اور اُن کی تائید میں شعروں کا حوالہ دیا ہے۔اُن کے جواب میں بجز اس کے کیا کہا جائے کہ اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔