مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 544
مکتوبات احمد لدلد جلد اول اے بندگان خدا! جو کچھ رگوید وغیرہ میں مخلوق چیزوں کی پرستش کا حکم پایا جاتا ہے اور اُن سے مرادیں مانگی گئی ہیں اور پانی اور آگ اور سورج اور چاند وغیرہ سے خدا ہی مراد ہے ۔ تم نے دھو کہ نہ کھانا اور خدا کو واحد لاشریک سمجھنا اور ویدوں میں جو مخلوق پرستی کی تعلیم ہے اُس پر کچھ اعتبار نہ کرنا۔ لیکن پنڈت صاحب نے ہرگز ثابت نہ کیا اور کیونکر ثابت کر سکتے ؟ ویدوں میں تو اس قدر مخلوق پرستی کھلی کھلی بیان ہے کہ کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتی ۔ ابتدا میں برہمو سماج والوں نے ویدوں کے پڑھنے میں بڑی کوشش کی اور اُن کے بعض نامی گرامی آدمیوں نے بڑی محنت سے ویدوں کو پڑھا۔ سو آخر کار انہوں نے بھی یہ رائے ظاہر کی کہ وید مخلوق پرستی سے بھرا ہوا ہے۔ ابھی پنڈت شیو نرائن نے تنقیح سے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں مفصل طور پر بیان کیا ہے کہ وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم بکثرت ہے اور نیز کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ گورنر بمبئی نے ہندوؤں کی تاریخ میں ایک کتاب لکھی ہے اور یہ گورنر اپنی قوم میں فضیلت علمی سے نہایت مشہور ہے اور آنریبل کے لقب سے ملقب ہے۔ اُس نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۹ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اکثر مقامات میں بید میں خدا کا ذکر بھی ہے۔ لیکن بید کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے بعض کو انسان سے برتر پیدا کیا ہے۔ سُو اُن دیوتاؤں کی پرستش کرنی چاہئے اور وہ دیوتا جن کی پرستش کا وید میں حکم ہے۔ پانی اور آگ اور خاک اور ستارے وغیرہ ہیں ۔ اب دیکھئے ! کہ اس آنریبل نے بھی ہماری رائے سے اتفاق کیا ۔ پھر پنڈت سرو ہا رام پھلوری نے ایک رسالہ بنایا ہے اس میں تو علاوہ مخلوق پرستی کے مورتی پوجا یعنی بت پرستی کا ثبوت بھی دیا ہے۔ لیکن برہمو سماج والوں نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا ۔ اُن کا بیان ہے کہ ویدوں میں دیوتا پرستی تو ضرور ہے اور بلا شبہ آگ و پانی وغیرہ چیزوں کی پرستش کے لئے اس میں صریح حکم ہے اور ان چیزوں کی حمد وثنا ہے لیکن مورتی پوجا کا صریح طور پر اس میں حکم نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ بابونوین چندر رائے نے جو اب لاہور میں موجود ہیں اور ویدوں کو سنسکرت میں پڑھا ہوا ہے اپنی کتاب اکشاستک میں اُس کو یہ تفصیل لکھا ہے اُن کی یہ اپنی عبارت ہے کہ بر تما لو جن کا برہان بیدوں میں نہیں پایا جاتا۔ مخلوق پرستی کی تعلیم بھی اور کسی جگہ نہیں ۔ اس کا یہ باعث ہے کہ وید ایک شخص کی تالیف نہیں ہے۔ وید متفرق لوگوں کے خیالات ہیں ۔ پس جن پر مخلوق پرستی غالب ہے اُنہوں نے اپنے کلام میں