مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 539
اور میں آپ کو یہ بھی تحریر کرتا ہوں کہ جو شخص اپنی رائے کے موافق کتاب کو واپس کرے یا لینا منظور نہ کرے یا کتاب یاکتاب کے مؤلّف کی نسبت کچھ مخالفانہ رائے ظاہر کرے۔اس کو یکدفعہ اپنے خلق سے محروم نہ کریں۔٭ ۲۱؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹؍ شعبان ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر۲۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ منشی فضل رسول صاحب کے خط کی نقل معہ کارڈ پہنچ گئے اور میں نے اُس دل آزار تقریر کو تمام و کمال پڑھا۔۔۱؎ جب میں نے منشی صاحب کے اس فقرہ کو پڑھا کہ اس میں تو بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں بھی نہیں ہے تو یہ یاد کر کے کہ منشی صاحب نے وید کو توحید میں بے مثال و مانند قرار دے کر قرآن شریف کی عظمت کا ایک ذرّہ پاس نہیں کیا اور دلیری سے کہہ دیا کہ جو وید میں توحید ہے وہ کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی۔اس فقرہ کے پڑھنے سے عجیب حالت ہوئی کہ گویا زمین و آسمان آنکھوں کے آگے سیاہ نظر آتا تھا۔رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔۲؎ پھر بعد اس کے منشی صاحب اس عاجز ذلیل، غریب تنہا سے پوچھتے ہیں کہ وید پڑھے ہیں یا نہیں اور اگر وید کو نہیں پڑھا تو اب تحقیق سے کسی وید دان سے دریافت کرنا چاہئے۔تو اس بات کا جواب منشی صاحب کو کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا معرضِ بیان میں لاویں۔جس حالت میں پہلے خط میں لکھا گیا تھا کہ جو کچھ یہ بیان کیا گیا ہے بِلا تحقیق نہیں تو اگر منشی صاحب ایک ذرّہ اس عاجز سے حسن ظن رکھتے تو بلا فائدہ تقریر کو طول نہ دیتے۔لیکن اس پُر آشوب زمانہ میں ہم غریبوں پر کسی کا حسن ظن کہاں؟ جب خداوندکریم دلوں کو اس طرف پھیرے گا تب نیک دل لوگ اس طرف پھریں گے۔اس وقت رگوید جو چاروں ویدوں میں پہلا وید ہے اور سب سے زیادہ متبرک اور معتبر اور مستند الیہ سمجھا گیا ہے میرے سامنے رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ پروفیسر ولسن صاحب کی ایک مختصر شرح بھی ہے۔اس میں ٭ الحکم ۱۲؍ مئی ۱۸۸۹ء صفحہ۳،۴ ۱؎ البقرۃ: ۱۵۷ ۲؎ تذکرہ صفحہ۳۷۔ایڈیشن چہارم