مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 539

مکتوبات احمد ۵۳۹ جلد اول اور میں آپ کو یہ بھی تحریر کرتا ہوں کہ جو شخص اپنی رائے کے موافق کتاب کو واپس کرے یا لینا منظور نہ کرے یا کتاب یا کتاب کے مؤلف کی نسبت کچھ مخالفانہ رائے ظاہر کرے ۔ اس کو یکدفعہ اپنے خلق سے محروم نہ کریں ☆ ۲۱ رجون ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹ رشعبان ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر ۲۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ منشی فضل رسول صاحب کے خط کی نقل معہ کارڈ پہنچ گئے اور میں نے اُس دل آزار تقریر کو تمام و کمال پڑھا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لے جب میں نے منشی صاحب کے اس فقرہ کو پڑھا کہ اس میں تو بیان تو حید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں بھی نہیں ہے تو یہ یاد کر کے کہ منشی صاحب نے وید کو توحید میں بے مثال و مانند قرار دے کر قرآن شریف کی عظمت کا ایک ذرہ پاس نہیں کیا اور دلیری سے کہہ دیا کہ جو وید میں توحید ہے وہ کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی ۔ اس فقرہ کے پڑھنے سے عجیب حالت ہوئی کہ گویا زمین و آسمان آنکھوں کے آگے سیاہ نظر آتا تھا ۔ رَبِّ أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ کے پھر بعد اس کے منشی صاحب اس عاجز ذلیل ، غریب تنہا سے پوچھتے ہیں کہ وید پڑھے ہیں یا نہیں اور اگر وید کو نہیں پڑھا تو اب تحقیق سے کسی ویددان - سے دریافت کرنا چاہئے ۔ تو اس بات کا جواب منشی صاحب کو کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا معرض بیان میں لاویں۔ جس حالت میں پہلے خط میں لکھا گیا کیا تھا کہ جو کچھ یہ بیان کیا گیا ہے بلا تحقیق نہیں تو اگر منشی صاحب ایک ذرہ اس عاجز سے حسن ظن رکھتے تو بلا فائدہ تقریر کو طول نہ دیتے ۔ لیکن اس پر آشوب زمانہ میں ہم غریبوں پر کسی کا حسن ظن کہاں؟ جب خداوند کریم دلوں کو اس طرف پھیرے گا تب نیک دل لوگ اس طرف پھریں گے ۔ اس وقت رگوید جو چاروں ویدوں میں پہلا وید ہے اور سب سے زیادہ متبرک اور معتبر اور مستندالیہ سمجھا گیا ہے میرے سامنے رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ پروفیسر ولسن صاحب کی ایک مختصر شرح بھی ہے۔ اس میں الحکم ۱۲ مئی ۱۸۸۹ ء صفحہ۴۳ لا البقرة: ۱۵۷ ۲ تذکرہ صفحہ ۳۷ ۔ ایڈیشن چہارم