مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 536
مکتوب نمبر۱۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آں مخدوم کے دو عنایت نامہ دوسرے بھی پہنچ گئے۔الحمدللہ کہ کام طبع کا شروع ہے۔یہ سب اُسی کریم کی عنایات اور تفضّلات ہیں کہ اس ناکارہ اور عاجز کے کاموں کا آپ متولی ہو رہا ہے۔ع اگر ہر موئے من گردد زبانے ازو رانم بہریک داستانے پنڈت دیانند نے کتاب طلب نہیں کی اور نہ راستی اور صدق کے راہ سے جواب لکھا بلکہ اُن لوگوں کی طرح جو شرارت اور تمسخر سے گفتگو کرنا اپنا ہنر سمجھتے ہیں۔٭ ایک خط بھیجا اور خط رجسٹری کرا کر بھیجا گیا۔جس کا خلاصہ صرف اس قدر تھا مجھ کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلام پر یقین کامل بخشا ہے اور ظاہری اور باطنی دلائل سے مجھ پر کھول دیا ہے کہ دنیا میں سچا دین دینِ محمدیؐ ہے اور اسی جہت سے مَیں نے محض خیر خواہی خلق اللہ کی رُو سے کتاب کو تالیف کیا ہے اور اُس میں بہت سے دلائل سے ثابت کر کے دکھلایا ہے کہ تعلیمِ حقّانی محض قرآنی تعلیم ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوں بلکہ اس بات کا بوجھ آپ کی گردن پر ہے کہ جن قوی دلیلوں سے آپ کے مذہب کی بیخ کنی کی گئی ہے اُن کو توڑ کر دکھلاویں یا اُن کو قبول کریں اور ایمان لاویں اور میں ہر وقت کتاب کو مفت دینے کو حاضر ہوں۔اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰی اسی حصہ چہارم میں اُن کے مذہب اور اصول کے متعلق بہت کچھ لکھا جائے گا اور آپ اگر خط کو چھپوا دیں تو آپ کو اختیار ہے۔مولوی عبدالقادر صاحب کی خدمت میں اور نیز قاضی خواجہ علی صاحب کی خدمت میں سلام مسنون پہنچے۔۱۵؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۹؍ شعبان ۱۳۰۰ھ ٭ نقل مطابق اصل۔اگلے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت دیانند کو بھیجا تھا۔