مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 530
نہایت بہتر ہے۔دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ۔۱؎ یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصدِ اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کیلئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو ربُّ العرش تک پہنچ جائیں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آ جایا کرے۔مگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔سو اگر خداوند کریم چاہے گا تو یہ عاجز آپ کے لئے دعا کرتا رہے گا۔یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ سچا تعلق وہی ہے جس میں سرگرمی سے دعا ہے۔مثلاً ایک شخص کسی بزرگ کا مرید ہے مگر اُس بزرگ کے دل میں اس شخص کی مشکل کشائی کیلئے جوش نہیںاور ایک دوسرا شخص ہے جس کے دل میں بہت جوش ہے اور وہ اُسی کام کے لئے ہو رہا ہے کہ حضرت احدیّت سے اُس کی رستگاری حاصل کرے۔سو خدا کے نزدیک سچا رابطہ یہ شخص رکھتا ہے۔غرض پیری مریدی کی حقیقت یہی دعا ہی ہے۔اگر مرشد عاشق کی طرح ہو اور مرید معشوق کی طرح تب کام نکلتا ہے۔یعنی مرشد کو اپنے مرید کی سلامتی کے لئے ایک ذاتی جوش ہو۔تا وہ کام کر دکھاوے۔سرسری تعلقات سے کچھ ہو نہیں سکتا۔کوئی نبی اور ولی قوّت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا۔یعنی اُن کی فطرت میں حضرت احدیّت نے بندگانِ خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے۔پس وہی عشق کی آگ اُن سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر اُن کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غمخواری خلق اللہ نہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں۔تب بھی وہ اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتے اور اُن کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو جان کنی سے کیا اجر ملے گا۔کیونکہ اُس کے جوشوں کی بِنا کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے۔اُسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۲؎ خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قدر غم اور درد کہ ُتو لوگوں کے مومن بن جانے کیلئے اپنے دل پر اُٹھاتا ہے۔اسی میں تیری جان جاتی رہے گی۔سو وہ عشق ہی تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔پس حقیقی پیری مریدی کا یہی اصول ہے اور صادق اسی سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کا قدیمی اصول ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں میں ضرور ہوتی ہے تا وہ سچے غمخوار بننے کے لائق ٹھہریں۔جیسے والدین اپنے بچہ کے لئے ایک قوتِ عشقیہ رکھتے ہیں۔تو اُن کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت ۱؎ ترمذی کتاب الدعوات ۲؎ الشعرآء: ۴