مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 522 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 522

مکتوب نمبر۱۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آںمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔باعث اطمینان خاطر ہوا۔آپ نے جو کچھ لکھا ہے بہت درست اور بجا لکھا ہے۔جو کچھ بطور رسم اور عادت کیا جاوے وہ کچھ چیز نہیں ہے اور نہ اُس سے کچھ مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔سچا طریق اختیار کرنے سے گو طالب صادق آگ میں ڈالاجاوے۔مگر جب اپنے مطلب کو پائے گا، سچائی سے پائے گا۔راست باز آدمی نہ کچھ عزت سے کام رکھتا ہے، نہ نام سے، نہ ننگ سے، نہ خلقت سے، نہ اُن کے لعن سے نہ اُن کے طعن سے، نہ اُن کی مدح سے، نہ اُن کی ذَمّ سے۔جب سچی طلب دامنگیرہو جاتی ہے تواُس کی یہی علامت ہے کہ غیر کا بیم اور امید بکلّی دل سے اُٹھ جاتاہے اور توحید کی کامل نشانی یہ ہے کہ محب صادق کی نظر میں غیر کا وجود اور نمود کچھ باقی نہ رہے۔۔۱؎ آپ اتباعِ طریقہ مسنونہ میں یہ لحاظ بدرجہ غایت رکھیں کہ ہر ایک عمل رسم اور عادت کی آلودگی سے بکُلّی پاک ہو جائے اور دلی محبت کے پاک فوارہ سے جوش مارے۔مثلاًدرود شریف اس طور پر نہ پڑھیں کہ جیسا عام لوگ طوطے کی طرح پڑھتے ہیں۔نہ اُن کو جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کامل خلوص ہوتا ہے اور نہ وہ حضورِ تام سے اپنے رسولِ مقبول کیلئے برکاتِ الٰہی مانگتے ہیں بلکہ درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لینا چاہئے کہ رابطہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ہر گز اپنا دل یہ تجویز نہ کر سکے کہ ابتداء زمانہ سے انتہاء تک کوئی ایسا فردِ بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت رکھتا تھا یا کوئی ایسا فرد آنے والا ہے جو اس سے ترقی کرے گا اور قیام اس مذہب کا اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ جو کچھ محبانِ صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مصائب اور شدائد اُٹھاتے رہے ہیں یا آئندہ اُٹھا سکیں یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے۔وہ سب کچھ اُٹھانے کیلئے دلی صدق سے حاضر ہو۔اور کوئی ایسی مصیبت عقل یا قوتِ واہمہ پیش نہ کر سکے کہ جس کے اُٹھانے سے دل رک جائے اور کوئی ایسا حکم عقل پیش نہ کر سکے کہ جس کی اطاعت سے دل میں کچھ روک یا انقباض پیدا ہو اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو جو اُس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا ۱؎ المائدۃ: ۵۵