مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 35
مکتوبات احمد ۳۵ جلد اول با قرار مضمون مشتہرہ کے خدمت مبارک باوا صاحب میں ارسال کیا گیا ہے ۔ باوا صاحب خوب جانتے ہیں جو اول تو خود اشتہار کسی مشتہر کا جو باضابطہ کسی اخبار میں شائع کیا جاوے قانوناً تاثیر ایک اقرار نامہ کی رکھتا ہے بلکہ وہ بلحاظ تعد دنقول کے گویا صد ہا تمسک ہیں ۔ علاوہ ازاں چٹھیات خانگی بھی جو کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں عدالت میں پیش کئے جاویں ایک قومی دستاویز ہیں اور قوت اقرار نامہ قانونی کے رکھتے ہیں ۔ سوچٹھی خاص بھی بھیجی گئی ۔ ماسوائے اس کے جب کہ اس معاملہ میں اشتہارات زبانی ثالثوں کے بھی موجود ہو گی تو پھر باوجود اس قدر انواع و اقسام کے ثبوتوں کے حاجت کسی عہد نامہ خاص کی کیا رہی ۔ لیکن چونکہ مجھ کو اتمام حجت مطلوب ہے اس لئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اس ثبوت پر کفایت نہ کر کے پھر باوا صاحب اقرار نامہ اشٹام کا مطالبہ کریں گے تو فوراً اقرار نامہ مطلوبہ اُن کا معرفت مطبع سفیر ہند کے یا جیسا مناسب ہو، خدمت میں اُن کی بھیجا جاوے گا۔ لیکن باوا صاحب پر لازم ہو گا کہ در صورت مغلوب رہنے کے قیمت اشٹام کی واپس کریں ۔ (۳) شرط سوم میں با وا صاحب روپیہ وصول ہونے کا اطمینان چاہتے ہیں ۔ سو واضح ہو اگر با واصاحب کا اس فکر سے دل دھڑکتا ہے کہ اگر روپیہ وقت پر ادا نہ ہوتو کس جائداد سے وصول ہوگا تو اس میں یہ عرض ہے کہ اگر باوا صاحب کو ہماری املاک موجودہ کا حال معلوم نہیں تو صاحب موصوف کو ایسے قلیل معاملہ میں زیادہ آگاہ کرنا ضروری نہیں صرف اس قدر نشاندہی کافی ہے کہ در صورت تردد کے ایک معتبر اپنا صرف بٹالہ میں بھیج دیں اور ہمارے مکانات اور اراضی جو قصبہ مذکورہ میں قیمتی چھ سات ہزار روپیہ کے موجود اور واقعہ ہیں اُن کی قیمت تخمینی دریافت کر کے اپنے مضطرب دل کی تسلی کر لیں اور نیز یہ بھی واضح ہو جو بحجر د جواب دینے کے مطالبہ روپیہ کا نہیں ہو سکتا جیسا کہ باوا صاحب کی تحریر سے مفہوم ہوتا ہے بلکہ مطالبہ کا وہ وقت ہوگا کہ جب کل آرائے تحریری ثالثان اہل انصاف کے، جن کے اسماء مبارکہ تنقیح شرط چہارم میں ابھی درج کروں گا، سفیر ہند میں بشرائط مشروطہ پر چہ ہذا کے طبع ہو کر شائع ہو جائیں گی ۔ (۴) شرط چہارم میں باوا صاحب نے صاحبان مندرجہ ذیل کو منصفان تنقید جواب قرار دیا ہے مولوی سید احمد خان صاحب، منشی کنہیا لال صاحب، منشی اندر من صاحب ۔ مجھ کو منصفان مجوزہ باوا صاحب میں کسی نہج کا عذر نہیں بلکہ میں اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو انہوں نے تجویز تقرر ثالثان