مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 512

توقف کے بعد شروع کیا جاوے گا۔چونکہ یہ تمام کام قوت الٰہی کر رہی ہے اور اُسی کی مصلحت سے اس میں توقف ہے۔اس لئے مومنین مخلصین نہایت مطمئن رہیں کہ جیسے خداوند کریم کے کامل اور قوی کام ہیں اسی طرح وہ وقتاً فوقتاً کتاب کی حصص کو نکالے گا۔وَھُوَاَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔والسلام علیکم وعلی اخوانکم من المومنین۔۲۲؍ جنوری ۱۸۸۳ء۔۱۲؍ربیع الاوّل ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مشفقی مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔بعد ہذا خداوند کریم آپ کو بہت جزاء خیر دیوے۔آپ سرگرمی سے تائید دین کیلئے مصروف ہیں۔آپ کی تحریر سے معلوم ہوا کہ قاضی باجی خان صاحب نے محض بطور امداد دس روپیہ بھیجے ہیں۔خداوند اُن کو اجر بخشے۔اس پُرآشوب وقت میں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں کہ اللہ اور رسول کی تائید کیلئے اور غیرت دینی کے جوش سے اپنے مالوں میں سے کچھ خرچ کریں اور ایک وہ بھی وقت تھا کہ جان کا خرچ کرنا بھی بھاری نہ تھا۔لیکن جیسا کہ ہر ایک چیز پُرانی ہو کر اُس پر گردوغبار بیٹھ جاتا ہے۔اب اسی طرح اکثر دلوں پر حبِّ دنیا کا گرد بیٹھاہوا ہے۔خدا اس گرد کو اُٹھاوے۔خدا اس ظلمت کو دور کرے۔دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے۔مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا ہے اور چونکہ ہر یک عُسر کے بعد یُسر اور ہر یک جذر کے بعد مَدّ اور ہر یک رات کے بعد دن بھی ہے۔اس لئے تفضّلات الٰہیہ آخر فرو ماندہ بندوں کی خبر لے لیتے ہیں۔سو خداوند کریم سے یہی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے اُنہوں نے اپنے گزشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اُٹھائے ہیں۔ویسا ہی اُن کو مرہم عطا فرماوے اور اُن کو ذلیل اور رسوا کرے جنہوں نے نور کو تاریکی اور تاریکی کو نور سمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حَد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز اُن لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے جنہوں نے حضرت احدیّت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی، غنیمت نہیں سمجھا اور اُس کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ