مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 511
حالت موجودہ ایک بڑے نبی کے مبعوث ہونے کو چاہتی تھی جس کا ثانی کوئی نہیں گزرا۔اور جس پر تمام کمالات نبوت ختم ہوگئے اور جس کی بعثت کے زمانہ نے اُن تمام تاریکیوں کو دور کر دیا اور وحدانیت کو زمین پر پھیلا دیا اور جو کچھ کفر اور شرک میں سے باقی رہا وہ ذلّت اور مغلوبیت کی حالت کے ساتھ باقی رہا۔لیکن چونکہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ ہیں، نبوت کے زمانہ سے بہت دور جا پڑا ہے۔اس لئے دو طور کی خرابی یعنی اندرونی اور بیرونی اس پر محیط ہو رہی ہے۔اندرونی یہ کہ بہت سے لوگوں نے مختلف فرقہ بنائے ہیں جو حقیقت میں خدا اور رسول کے دشمن ہیں۔بہتوں پر اباحت اور الحاد کا غلبہ ہے کہ خدا کے وجود کو اور اُس مدبّرِ عالَم کی ہستی کو کوئی مستقل شَے نہیں سمجھتے بلکہ اپنے ہی وجود کو خدا سمجھے بیٹھے ہیں اور اسی خیال کے غلبہ سے احکام الٰہی کی تعمیل سے بکلّی فارغ ہیں اور شریعتِ حقّانی کوبتر ۱؎ استحفاف دیکھتے ہیں اور صوم اور صلوٰۃ پر ٹھٹھا کرتے ہیں۔ایک دوسرا فرقہ ہے جو بہشت، دوزخ، ملائک، شیطان وغیرہ سب سے منکر ہیں اور وحی الٰہیہ سے انکاری ہیں باایں ہمہ مسلمان کہلاتے ہیں۔غرض اندرونی فساد بھی نہایت درجہ تک پہنچ گئے ہیں اور بیرونی فسادوں کا یہ حال ہے کہ چاروں طرف سے دشمن اپنے اپنے تیر چھوڑ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بالکل اسلام کو نیست و نابود کر دیں۔حقیقت میں یہ ایسا پُر آشوب زمانہ ہے کہ اسلامی زمانوں میں کہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔پہلے لوگ صرف غفلت اور کم توجہی سے اسلام کے مخالف تھے۔مگر اب دو فرقہ اسلام سے مخالف ہیں۔ایک تو وہی غافل اور کم توجہ لوگ۔دوسرے وہ لوگ پیدا ہوگئے کہ جو شرارت اور خبث سے، عقل کی بداستعمالی سے اسلام پر حملہ کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو علوم کے لئے روشنی کا دعویٰ کرتے ہیں اور متبعین شریعت اسلام کو کہتے ہیں کہ یہ پُرانے خیالات کے آدمی ہیں اور یہ سادہ لوح اور ہم دانا ہیں۔پس ایسے دنوں میں خداوند کریم کا یہ نہایت فضل ہے کہ اپنے عاجز بندہ کو اس طرف توجہ دی ہے اور دن رات اُس کی مدد کر رہا ہے تا باطل پرستوں کو ذلیل اور رُسوا کرے۔چونکہ ہر حملہ کی مدافعت کے لئے اس سے زبردست حملہ چاہئے اور قوی تاریکی کے اُٹھانے کیلئے قوی روشنی چاہئے۔اس لئے یہ امید کی جاتی ہے اور آسمانی بشارات بھی ملتے ہیں کہ خداوند کریم اپنے زبردست ہاتھ سے اپنے عاجز بندہ کی مدد کرے گا اور اپنے دین کو روشن کر دے گا۔اب انشاء اللہ تعالیٰ حصہ چہارم کچھ تھوڑے مطابق اصل۔یہ سہو کاتب معلوم ہوتا ہے۔صحیح ’’بنظر استخفاف ہے‘‘۔