مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 509
ہے۔اس لئے ضرور تھا کہ ان کا ردّ لکھا جاوے۔اور اُن کا کتب الہامیہ سے انکار کرنا ایسا جزو مذہب ہے جیسا کہ ہمارے یہاں کا اقرار اصل مذہب ہے۔غرض آریہ سماج ایک الگ فرقہ ہے۔جو بہت ذلیل اور ناکارہ خیال رکھتا ہے اور وہ عقل کے پابند نہیں۔بلکہ صرف وید پر چلتے ہیں اور بہت سے واہیات اور مزخرفات کے قائل ہیں۔مگر برہمو سماج کا فرقہ دلائل عقلیہ پر چلتا ہے اور اپنی عقلِ ناتمام کی وجہ سے کتب الہامیہ سے منکر ہے۔چونکہ انسان کا خاصہ ہے کہ معقولات سے زیادہ اور جلدتر متاثر ہوتا ہے۔اس لئے اطفال مدارس اور بہت سے نوتعلیم یافتہ ان کی سوفسطائی تقریروں سے متاثر ہوگئے اور سید احمد خان بھی اُنہیں کی ایک شاخ ہے اور انہیں کی صحبتوں سے متاثر ہے۔پس اُن کے زہرناک وساوس کی بیخ کنی کرنا از حد ضرورتھا۔لاہور کے برہموسماج نے پرچہ ’’رفاہ‘‘ میں بہ نیت ردّ حصہ سیوم کچھ لکھنا بھی شروع کیا ہے۔مگر حقِ محض کے آگے اُن کی کوششیں ضائع ہیں۔عنقریب خدا اُن کو ذلیل اور رُسوا کرے گا اور اپنے دین کی عظمت اور صداقت ظاہر کردے گا۔منشی احمد جان صاحب نے جو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تعریف میں مبالغہ نہ ہو۔اس کا مطلب اس عاجز کو معلوم نہیں ہوا۔اس کتاب میں تعریف قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔سو وہ دونوں دریائے بے انتہا ہیں اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل اُن کی تعریف کریں۔تب بھی حق تعریف کا ادا نہیں ہو سکتا۔چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خداوند کریم کی طرف سے القا ہوئے کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں حضرت خاتم الانبیاء کی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور اسی وقت تک کوئی دوسرا اُن کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تک اس نبی کریم کی متابعت کرے اور جب متابعت سے ایک ذرّہ منہ پھیرے تو پھر تحت الثرٰی میں گر جاتا ہے۔اُن الہامی عبارتوں میں خداوند کریم کا یہی منشاء ہے کہ تا اپنے نبیؐ اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے۔٭ (۸؍ نومبر ۱۸۸۲ء مطابق ۲۶ ذی الحجہ ۱۲۹۹ ہجری)