مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 493
مکتوبات احمد ۴۹۳ جلد اول سے پورا ہوا ۔ الہام الہی کے یہ لفظ ہیں ۔ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَيَرُدُّهَا إِلَيْكَ یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی ۔ خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ ردّ کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے۔ پس چونکہ محمدی ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی یعنی میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی یعنی احمد بیگ کی ۔ پس اس صورت میں ردّ کے معنی اُس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی ۔ سوا لیسا ہی ہو گا مگر چونکہ آتھم کی پیشگوئی کی طرح یہ بھی شرطی پیشگوئی ہے۔ اس لئے کسی میعاد سے اس کو تعلق نہیں اور اس کے ظہور کا منتظر رہنا چاہیے۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ رڈ کے یہ معنی نہیں تو بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔ بے شک یہ سچ ہے کہ میعاد اس شرطی پیشگوئی کی گزر گئی ۔ مگر شرطی پیشگوئی میعاد کے گزرنے سے باطل نہیں ہوتی ۔ بلکہ وعید کی پیشگوئیاں جو کسی کے عذاب کے متعلق ہوں باوجود نہ ہونے کسی شرط کے اصل میعاد سے متاخر ہو سکتی ہیں جیسا کہ یونس نبی کی پیشگوئی متاخر ہو گئی ۔ اس میں راز یہ ہے کہ خدائے کریم کا تمام نبیوں کی زبانی وعدہ ہے کہ جس بلا کا اس نے ارادہ کسی کی نسبت کیا ہے خواہ پیشگوئی کے پیرا یہ میں خواہ کسی اور طرح ۔ وہ اس بلا کو تو بہ اور صدقہ اور خیرات کی وجہ سے ٹال سکتا ہے یا اس میں تاخیر ڈال سکتا ہے۔ اس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے اور منکر اس کا کافر ہے ۔ پس یہ اعتراض اعتراض نہیں ہے بلکہ جہالت ہے خصوصاً جس حالت میں پیشگوئی کی ایک شاخ پوری ہو چکی ہے۔ یعنی محمدی کا باپ جس کی موت اس پیشگوئی میں داخل تھی ۔ میعاد کے اندر مر چکا۔ پس یہ تو محل تصدیق ہے نہ جائے اعتراض ۔ اور دوسرے شخص کی موت میں تا خیر اسی وجہ سے ہوئی کہ اسی پیشگوئی سے ایک بڑی موت فریق ثانی کے بزرگ کی یعنی احمد بیگ کی میعاد مقررہ کے اندر وقوع میں آ گئی ۔ اور اُس نے ان کے دلوں میں سخت خوف ڈال دیا کیونکہ جب کہ دو شخص پیشگوئی کی زد میں تھے اور ایک اُن میں سے میعاد کے اندر لے تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۱۲۶