مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 494
مر گیا۔تو یہ بات ایک طبعی امر تھا کہ دوسرے شخص اور اس کے اقارب کو خوف دامن گیر ہو جاتا۔پس وہی خوف قرآن شریف کے وعدہ کے مطابق تاخیر بلا کا موجب ہوا۔اور جیسا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں ہے کسی حد تک تاخیر ہوگئی کیونکہ خوف کے وقت خدا تعالیٰ بلا کو، جس کا ارادہ کیا گیا ہے، ٹال دیتا ہے یا تاخیر میں ڈال دیتا ہے۔نمبر۶: آپ نے فرمایا تھا کہ وہ ملعون مردار ہو کر مر جائے گا یا وہ جگہ آپ کے ہاتھ آئے گی مگر اب تک کوئی بات ظہور میں نہ آئی۔الجواب: میں اس اعتراض کو سمجھا نہیں۔آپ اس ملعون کا نام لیں مجھے بالکل معلوم نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔وہ جگہ کونسی ہے اور وہ ہندو کون اور الہام کون ہے۔اس کی تشریح آپ کے ذمہ ہے۔مکرراً اس قدر لکھنے کی ضرورت ہوئی کہ میں نے پیسہ اخبار والے کو ناحق طور پر سرزنش نہیں کی۔بلکہ اس نے قادیان کی نسبت ایک لمبی فہرست دی تھی کہ اتنے آدمی طاعون سے فوت ہوگئے ہیں حالانکہ اس فہرست میں بہت سی خلافِ واقعہ اموات درج تھیں۔اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ کسی دوسرے وقت میں کچھ وارداتیں طاعون کی قادیان میں بھی ہوئیں تھیں مگر نہ اس قدر جس پر پیسہ اخبار نے شور مچایا تھا اور ضرور تھا کہ کسی قدر قادیان میں طاعون کی وارداتیں ہوتیں تا پیشگوئی پوری ہوتی۔یہ آپ نے کس کے منہ سے سن لیا کہ کوئی الہام میں نے ایسا شائع کیا تھا کہ قادیان میں کوئی واردات طاعون نہیں ہوگی۔اور آپ کا یہ کہنا کہ قادیان کی نسبت شکارپور دارالامان ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر ہنسی اور گستاخی ہے۔معلوم نہیں کہ آئندہ شکار پور کی نسبت کیا قہر الٰہی مخفی ہے کہ یہ گستاخی کے کلمات آپ کے منہ سے نکل گئے۔اور یہ آپ کا کہنا کہ اب قادیان میں صرف تین سَو آدمی کی آبادی باقی ہے۔یہ آپ کو کس نے سنایا۔لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ۔قادیان کی آبادی قدیم سے تین ہزارسے کچھ تھوڑی ہے۔اور اب بھی اسی قدر ہے کوئی اس قصبہ کے اندر داخل ہو کر نہیں خیال کر سکتا کہ ایک بھی مرا ہے۔٭ مورخہ ۲۰؍ جون ۱۹۰۵ء الراقم ٭ اخبار البدر ۲۲؍ جون ۱۹۰۵ء خاکسار میرزا غلام احمد