مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 492

جھوٹ اور افترا ہے۔صرف یہ وحی الٰہی شائع کی تھی۔وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُوْلٰئِکَ لَھُمُ الْاَ مْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۱؎ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور کسی قسم کا ظلم اور قصور ان کے ایمان میں نہ تھا وہ امن میں رہیں گے۔پس میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ایک بھی ایسے مریدوں میں سے طاعون سے نہیں مرا۔باقی وہ لوگ جو کچھ کچھ دنیاداری کا رنگ اپنے خ اندر رکھتے ہیں اور ان کا میرے ساتھ وہ پاک تعلق نہیں جو ظلم او ر قصور سے ان کو مبرا کرے۔یہ پیشگوئی اُن کی ذمہ دار نہیں۔ابھی بہت تھوڑے ہیں جو اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔میں یقینا جانتا ہوں کہ جو شخص مجھ سے سچی محبت رکھتا ہے اور میں بھی اس سے محبت رکھتا ہوں اور نفسانی اغراض سے پاک ہے اور وفااور صدق کامل طور پر رکھتا ہے اور ٹھوکر کھانے والا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتا اور متقی ہے اور کسی ابتلا کے وقت مرتد ہونے کے لئے تیار نہیں اور میری عظمت اور مرتبہ کو سمجھتا ہے اور کوئی شک و شُبہ اپنے اندر نہیں رکھتا اور نہ کسی ابتلا کے وقت شُبہ پیدا ہونے کا خانہ اس کے دل میں موجود ہے۔وہ ضرور طاعون سے بچایا جائے گا کیونکہ ایک قسم کا مجھ سے اتحاد رکھتا ہے۔مگر بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہم مرید ہیں مگر وہ مرید نہیں۔وہ پورے زور سے تقویٰ کی راہوں پر قدم نہیں مارتے اور دنیا کے گند اُن کے اندر ہیں اور پورے صدق سے مجھ سے تعلق نہیں رکھتے۔ایک ادنیٰ ابتلا کے وقت میں دیکھتا ہوں کہ وہ گرے، وہ گرے۔پس درحقیقت ان کو مجھ سے تعلق نہیں اور نہ مجھے اُن سے تعلق۔اور اگر وہ قیامت کو بھی میرے پاس آویں تو مجھے کہنا پڑے گا کہ مجھ سے دور رہو کہ میں تمہیں شناخت نہیں کرتا۔ہاں ایسے بھی ہیں کہ گو طاعون سے بوجہ عدم کمال تام کے فوت ہو جائیں یعنی ان میں شرائط متذکرہ بالا پورے طور متحقق نہ ہوں مگر شہیدوں میں لکھے جائیں گے اور طاعون اُن کے بہشت کا ذریعہ ہو جائے گا کیونکہ ایک حصہ صدق کا ان میں ہے جو کامل نہیں۔اعتراض پنجم۵: مسماۃ محمدی کو دوسرا شخص نکاح کر کے لے گیا اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی۔الجواب: وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ وہ دوسری جگہ نہیں بیاہی جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے۔سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۸۴