مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 481
شہرت صرف ان کے چند مریدوں تک محدود تھی لیکن یہ نشان کروڑہا انسانوں میں شہرت پاگئے۔مثلاً دیکھو کہ لیکھرام کی پیشگوئی کو کیوں کر فریقین نے اپنے اشتہارات میں شائع کیا اور قبل اس کے جو وہ پیشگوئی ظہور میں آوے، لاکھوں انسانوں میں اس پیشگوئی کا مضمون شہر ت پاگیا اور تین قومیں ہندو، مسلمان ، عیسائی اس پر گواہ ہوگئیںپھر اسی کروفر سے وہ پیشگوئی ظہور میں بھی آئی اور اسی طرح لیکھرام قتل کے ذریعہ سے فوت ہوا جیسا کہ پیش از وقت ظاہر کیا گیا تھا۔کیا ایسی ہیبت ناک پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کے اختیار میں ہے؟ کیا اس ملک کی تین قوموں میں اس قدر شہرت پاکر اور ایک کشتی کی طرح لاکھوں انسانوں کے نظارہ کے نیچے آکر اس کا پورا ہوجانا ایسی پیشگوئی کی جو اس شان وشوکت کے ساتھ پوری ہوئی ہو۔تیرہ سو برس کے زمانہ میں کوئی نظیربھی ہے؟ اور بعض کا یہ کہنا کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔اس کا جواب بجز اس کے ہم کیا دیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ نور انصاف ہوتا تو وہ شبہ کے وقت میرے پاس آتے تو میں ا ن کو بتلا تا کہ کس خوبی سے تمام پیشگوئیاں پوری ہوگئیں۔ہاں ایک پیشگوئی ہے جس کا ایک حصہ پورا ہوگیا اورایک حصہ شرط کی وجہ سے باقی ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوگا۔افسوس تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی وہ سنتیں اور قانون بھی معلوم نہیں جو پیشگوئیوں کے متعلق ہیں۔ان کے قول کے مطابق تو یونس نبی بھی جھوٹا تھا جس نے اپنی پیشگوئی کے قطعی طور پر چالیس دن مقرر کئے تھے مگر وہ لوگ تو چالیس برس سے بھی زیادہ زندہ رہے اور چالیس دن میں نینوہ کا ایک تنکا بھی نہ ٹوٹا بلکہ یونس نبی تو کیا تمام نبیوں کی پیشگوئیوں میں یہ نظیریں ملتی ہیں۔پھر اخیر پر خدا تعالیٰ کی قسم آپ کو دیتا ہوں کہ آپ وہ تمام مخالفانہ پیشگوئیاں جو میری نسبت آپ کے دل میں ہوں لکھ کر چھاپ دیں۔اب دس دن سے زیادہ میںآپ کو مہلت نہیں دیتا۔جون مہینے کی ۳۰ تاریخ تک آپ کا اشتہار مخالفانہ پیشگوئیوں کا میرے پاس آجانا چاہئے ورنہ یہی کاغذ چھاپ دیا جائے گااور پھر آئندہ آپ کو کبھی مخاطب کرنا بھی بے فائدہ ہوگا۔والسلام٭ خاکسار ۱۶؍جون ۱۸۹۹ء مرزا غلام احمد عفی عنہ‘ ٭ تشحیذالاذہان جلد۹ نمبر۳ صفحہ۴۱ تا ۴۶