مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 478

مکتوبات احمد ۴۷۸ جلد اول - کے الہام ہوں ۔ وہ سب دیانت کے ساتھ چھاپ دیں اور کوئی الہام جو تصدیق یا تکذیب کے متعلق ہو، پوشیدہ نہ رکھیں ۔ تب کسی آسمانی فیصلہ کی امید ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اللہ تعالیٰ کی قسمیں آپ کو پہلے خط میں دی تھیں تا آپ جلد تر اپنے الہام میری طرف بھیج دیں مگر آپ نے کچھ پروانہیں کی اور میرے نزدیک یہ عذر آپ کا قبول کے لائق نہیں کہ آپ کو مخالفانہ الہام اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ ایک مدت ان کی تشریح کے لئے چاہئے ۔ میرے خیال میں یہ کام چند منٹ سے زیادہ کا کام نہیں ہے اور غایت درجہ دو گھنٹہ تک معہ تشریح و تفسیر آپ لکھ سکتے ہیں اور اگر کسی اور کتاب کا ارادہ ہے تو اس کو اس سے کچھ تعلق نہیں ۔ مناسب ہے کہ آپ اس اُمت پر رحم کر کے اور نیز خدا تعالیٰ کی قسموں کی تعظیم کر کے بالفعل دو تین سوالہام ہی جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا کام ہے ، چھپوا کر روانہ فرما دیں ۔ یہ تو میں تسلیم نہیں کر سکتا کہ الہامات کی بڑی بڑی عبارات ہیں ۔ بلکہ ایسی ہوں گی جیسا کہ آپ کا الہام مُسْرِف کذاب ہے تو اس صورت میں آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کے الہام کا غذ کے ایک صفحہ میں کس قدر آ سکتے ہیں ۔ میں پھر آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کی حالت پر رحم کر کے بھجر دپہنچنے اس خط کے اپنے الہامات چھپوا کر روانہ فرماویں۔ مجھے اس بات پر بھی سخت افسوس ہوا ہے کہ آپ نے بے وجہ میری یہ شکایت کی کہ گویا میں نے مولوی عبداللہ صاحب کی کوئی بے ادبی کی ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ میری گفتگو صرف اس قدر تھی کہ آپ مولوی محمد حسین کو کیوں بُرا کہتے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے مرشد مولوی عبداللہ صاحب نے اس کے حق میں یہ الہام شائع کیا تھا کہ وہ تمام عالموں کے لئے رحمت ہے اور سب اُمت سے بہتر ہے ۔ یہ قرآنی الہام تھے جن کا میں نے ترجمہ کر دیا ہے۔ اس صورت میں اس میں اگر شک تھا تو آپ مولوی محمد حسین سے دریافت کر لیتے ۔ سچی بات پر غصہ کرنا مناسب نہیں ہے ۔ پھر ماسوا اس کے جس دعوی کے ساتھ خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس کے مقابل پر عبداللہ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتے تو وہ میرے تابعداروں اور خادموں میں داخل ہو جاتے ۔ ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے آگے گردن خم کرنا اور غربت اور چاکری کی راہ سے اطاعت اختیار کر لینا ہر ایک دیندار اور سچے مسلمان کا کام ہے۔ پھر وہ کیوں کر میری اطاعت سے باہر رہ سکتے تھے ۔ اس صورت میں آپ کا کچھ بھی حق نہیں تھا۔ اگر میں حکم ہونے کی حیثیت سے ان میں کچھ کلام کرتا ۔ آپ لی تذکره صفحه ۵۵۱ ایڈیشن چهارم