مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 477
مکتوبات احمد ۴۷۷ مکتوب نمبر ۲۵ بنام منشی الہی بخش صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از جانب متوکل علی اللہ الاحد غلام احمد عافاه الله واید ۔ بخدمت اخویم مکرم با بوا الہی بخش صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ جلد اول بعد ہذا اس عاجز کو اس وقت تک آئمکرم کے الہامات کی انتظار رہی ۔ مگر کچھ معلوم نہیں کہ تو قف کا کیا باعث ہے۔ میں نے سراسر نیک نیتی سے جس کو خدا وند کریم جانتا ہے یہ درخواست کی تھی تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان متناقض الہامات میں کچھ فیصلہ ہو جائے ۔ کیونکہ الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقعہ ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیوں کر ہو سکے کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانہ کے تمام مومنوں سے بہتر اور افضل اور مثیل الانبیاء اور مسیح موعود اور مجد د چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کی مانند اور خدا کا مرسل ہے اور اس کی درگاہ میں وجیہہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کی مانند ہے اور ادھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون اور کذاب اور مسرف اور فاسق اور کافر اور ایسا اور ایسا ہے۔ ایسا ہی اس شخص کو تو یہ الہام کرے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا ۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریق اختیار کرتے ہیں ۔ پس آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدرا سلام پر یہ مصیبت ہے کہ ایسے مختلف الہام ہوں اور مختلف فرقے پیدا ہوں جو ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوں ۔ اس لئے ہمدردی اسلام اسی میں ہے کہ ان الہامات کا فیصلہ ہو جائے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی فیصلہ کی راہ پیدا کر دے گا اور اس مصیبت سے مسلمانوں کو چھڑائے گا۔ لیکن یہ فیصلہ تب ہو سکتا ہے کہ ملہمین جن کو الہام ہوتا ہے وہ زنانہ سیرت اختیار نہ کریں اور مرد میدان بن کر جس طرح