مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 475

بھی بتایا تھا کہ آپ ان الہامی فقرات سے دھوکا نہ کھائیں جو آپ کی زبان پرجاری ہوتے ہیں۔میری جماعت میں اس قسم کے ملہم مِن اللہ ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے اور ان کے الہامات میں آپ کی نسبت غلطی کم ہوتی ہے۔ایسے الہامات سے کوئی شخص بھی امام الزماں کی بیعت سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔غرض ان تمام حالات نے انکی ایمانی حالت میں ایک تغیر پیدا کردیا اور وہ محبت کی بجائے کینہ اور مخالفت کے جذبات لے کر واپس گئے اور اپنی مجلسوں میں انہوں نے ذکر کیاکہ میری تحقیر اور تذلیل کی گئی۔حضرت اقدس نے ہمدردی کے جوش میں ضرورۃ الامام نام کی کتاب ڈیڑھ دن میں تیار کرکے شائع کردی۔اس میں کہا کہ میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ میں ان کیلئے امامت حقّہ کے بیان میں یہ رسالہ لکھوں اور بیعت کی حقیقت تحریر کروں‘‘۔حضرت اقدس کے اس رسالہ کے بعد ان کی مخالفت میں شدت اور محبت بغض کی صورت میں تبدیل ہوگئی اور وہ پھر اسی غزنوی ٹولہ کے افراد سے ربط ضبط کرنے لگے جن کی نسبت انھیں کبھی الہام ہوا تھا۔چِہ دَاند بوزنہ لذّات ادرک چونکہ وہ علوم دینی سے واقف نہ تھے اور ایک عامی انگریزی خواں تھے اس لئے مخالفانہ تحریروں کے لئے ان لوگوں کے دامن میں ہی پناہ لینی پڑی جن کو نفرت اور حقارت سے اپنے الہامات میں ہندو کے لفظ سے یاد کرتے تھے اور مخالفت میں شدت ہوتی گئی۔جون ۱۸۹۹ء کو حضرت اقدس نے بابو صاحب کو ایک خط لکھا کہ آپ کو بھی الہام ہوتے ہیں اور مجھے بھی الہام ہوتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی ضدہیں۔مسلمان حیران ہیں کہ کس کو مانیں اور کس کو نہ مانیں۔پس آپ کو خدا کی قسم ہے کہ اسلام اور مسلمانوں پر رحم کرکے ۳۰؍جون ۱۸۹۹ء تک اپنے الہامات جو میرے خلاف ہیں چھاپ کر مجھے بھیج دیں تا پھر میں بھی اپنے الہامات جن پر میرے دعاوی کی بنا ہے چھاپ دوں اور پھر ہم دونوں خدا سے آسمانی فیصلہ کی درخواست کریں تا مسلمانوں کو اس تذبذب سے نجات ہو۔منشی الٰہی بخش صاحب اس میدانِ مقابلہ میں نہ نکلے اور یوں اپنی مجلسوں میں مخالفت کرتے رہے۔اس پر حضرت اقدس نے ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء کو اتمامِ حجت کے لئے ایک اعلان بعنوان معیار الاخیار شائع کیا او ر پھر ۱۶؍جون ۱۸۹۹ء والے خط کے مطالبہ کو دہرایا مگر لاہوری ملہم کو اس مقابلہ میں علی الاعلان آنے کی ہمت نہ پڑی اور ایک