مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 474

بآسانی اس خواب کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ ایک زمانہ تک اس شخص کا یہ دعویٰ رہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تائید میں ایسے الہامات اور کشوف ہوتے ہیں اور وہ آپ کی اسلامی خدمات کو خود دیکھتا تھا اور حضرت کے متعلق اس کے اپنے الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہ خاص اللہ کا فضل ہے۔باوجود ان باتوں کے اس خواب نے اس کو غلطی میں ڈال دیا اور وہ اپنے آپ کو اس مقام پر سمجھنے لگا کہ وہ شخص جس کے مقام اور شان کی خدا تعالیٰ نے بقول اس کے اس کو خبردی تھی اس کی بیعت کرے۔یہ خواب اس کے لئے ٹھوکر کا پتھر ہوا۔بابو صاحب ستمبر۱۸۹۸ء میں قادیان اس خواب کو دیکھ کر آئے۔منشی عبدالحق صاحب لاہوری بھی ان کے ساتھ تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کو اپنے الہامات اور یہ خواب سنایا۔حضرت اقدس نے نہایت محبت اور درد دل کے ساتھ ان کو بتایا کہ مامور من اللہ اور عوام کے الہامات میں ایک فرق بیّن ہوتا ہے۔عوام کے الہامات میں ان کی ذاتی خواہشات اور تمنابھی شامل ہوجاتی ہے اور اس طرح بعض اوقات وہ شیطان کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں۔حضرت اقدس سے ان کا یہ تخلیہ قریباً دو گھنٹہ تک رہا۔مغرب کی نماز کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر میں نے حافظ محمد یوسف صاحب کے ذکر میں کیا ہے۔حضرت اقدس کی نصائح سے وہ پہلے ہی افروختہ تھے۔بابو صاحب زود رنج تھے اور اس کی علامات ہرشخص ان کے چہرہ پر دیکھ سکتا تھا کہ وہ عموما ً عبوس الوجہ رہتے تھے۔جب بلعم والے معاملہ کو حضرت نے بیان کیا تو اس بدقسمت نے یہ سمجھا کہ مجھے ایسا کہا گیا ہے۔میں جو اس مجلس میں موجود تھا، قسم کھا کر بیان کرسکتا ہوں کہ حضرت نے اشارتاً کنا یتاً بھی ان کی نسبت کچھ نہ کہا۔حضرت مولوی عبدالکریم ؓ کا سوال بھی اس نیت سے نہ تھا اور وہ خالی الذہن تھے۔حضرت اقدس نے اس گفتگو کا جو اندر تخلیہ میں منشی الٰہی بخش سے ہوئی اب تک ذکر نہ کیا تھا۔یہ حالات تو ضرورۃالامام کی تصنیف اور منشی الٰہی بخش کے جانے کے بعد کہے۔غرض منشی صاحب کیلئے یہ سفر نہایت نامبارک ہوا وہ اخلاص اور محبت جو انہوںنے سالہا سال سے پیدا کی تھی وہ اپنے نفس کے مکاید میں مبتلا ہوکر ضائع کردی اور ان کا انجام ابتداء سے بدتر ہوگیا۔وہ اپنے دل میں یہ جذبہ لے کر گئے کہ حضرت مرزا صاحب نے انکو بھری مجلس میں ذلیل کیا اور میرے الہامات کو حقیر سمجھا۔کیونکہ حضرت اقدس نے اپنی ملاقات میں انہیں یہ