مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 466
حضرت اقدس کے متعلق بیان کیا تھا جس کا میں بھی گواہ تھا اور وہ معراج یوسفی کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔یہ ساری جماعت جن میں حافظ صاحب۔منشی الٰہی بخش۔منشی عبدالحق وغیرہ شامل تھے اخلاص کے ساتھ کام کر رہی تھی مگر کوئی مخفی معصیت تھی جو اندر ہی اندر غیر معلوم طور پر ان کے خبطِ اعمال کا سامان کررہی تھی۔ایک روز منشی الٰہی بخش اور عبدالحق صاحب لاہور سے آئے۔ان ایام میں منشی الٰہی بخش کو اپنے الہامات کا بڑا دعویٰ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ موسیٰ ہیں۔شام کی نماز کے بعد حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر تشریف فرما تھے۔یہ بزرگ بھی موجود تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ قرآن مجید کی بعض آیات کے متعلق ایسے موقعہ پر کوئی سوال کیا کرتے تاکہ حقایق و معارف کے دریا بہہ نکلیں۔انہوں نے (یہ سب میرے سامنے کا واقعہ ہے۔عرفانی کبیر) حضرت سے دریافت کیا کہ حضرت! یہ کیا راز ہے کہ بلعم جو بڑا خدارسیدہ اور عبادت گزار، صاحب الہام تھا وہ اس قدر گرا کہ قرآن کریم میں اس کی مثال ّکتے سے دی گئی ہے۔اس پر حضرت اقدس نے بڑی لطیف تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے مامورین کا مقام اتنا بلند ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی گوارا نہیں کرتی کہ کوئی ان کے مقابلہ میں کھڑا ہو اور جو بھی اس مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے وہ عالِم ہو تو اس کا علم اورصاحب کشف والہام ہوتو اس کے کشوف و الہام سلب ہوجاتے ہیں۔اس لئے کہ مامور مِنَ اللہ خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کی ہستی کو منوانے کے لئے اس کا مظہر ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔بلعم، موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں کھڑا ہوا۔وہ موسیٰ کا نہیں خدا کا مقابلہ تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مخذول کر دیا۔یہ خلاصہ اس تقریر کا میرے اپنے الفاظ میں ہے۔بد قسمتی سے منشی الٰہی بخش نے یہ سمجھا کہ مجھے بلعم بنایا گیا ہے اور میری اس طرح تحقیر کی گئی ہے۔اس کے بعد وہ مخالفت پر آمادہ ہو گیا اور واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ فی الحقیقت مخذول بلعم ثابت ہوا۔حافظ صاحب اور منشی عبدالحق۔الٰہی بخش کے رفقاء میں سے تھے اور دوست نوازی نے ان کو بھی اپنے مقام سے گرادیا اور مجھے افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ ان کا انجام اس دنیامیں اس کا مصداق ہوا۔