مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 456
کرو۔مرزا مسیلمہ ہے، اسو دعنسی ہے، کذّاب ہے، مفتری ہے۔دجّا ل۔نعوذ باللہ منہا۔مولوی صاحب پر ایک تو یہ وبال پڑا اور دوسرا وبال یہ پڑا کہ مجدد کہلایا۔اس وبال و نِکال کا یہ نتیجہ ہوا کہ بیوی مری۔بیٹا مرا۔دو بیٹوں کی بیویاں مریں۔صرف اکیلا رہ گیا۔پھر نابینا ہو گیا اور حدیث جو پڑھایا کرتا تھا وہ پڑھاناجاتا رہا۔کئی ایک مرید جو اس کے تھے اور بڑے تھے مرگئے اور سارا کارخانہ درہم برہم ہو گیا۔اور مولوی عبدالقادر صاحب جو ان کے مرید اور خلیفہ تھے۔وہ حضرت اقد س علیہ السلام کے مرید ہو گئے۔اس پر مولوی گنگوہی کو سخت ہم و غم ہوا۔حضرت اقد س علیہ السلام نے مباہلہ کے لئے بھی بہت مولوی رشید احمد متوفی سے تحریری اور زبانی کہا لیکن مباہلہ نہ کیا اور ایک وبال مولوی صاحب پر یہ پڑا کہ بار بار ان کی زبان سے نکلا کہ جیسے الہام مرزا غلام احمد قادیانی کو (علیہ الصلوٰۃ والسلام) ہوتے ہیں۔اس سے بڑھ کر ہمارے مریدوں کو بھی ہو ا کرتے ہیں۔گویا مفتری علی اللہ بھی بنا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اشتہار دیا تھا کہ مولوی رشیدا حمد گنگوہی اور احمد اللہ امرتسری اورر سل بابا وغیرھم مجھ سے مباہلہ کرلیں۔گیارہ عذابوں میں سے ایک عذاب ضرور ان پر، اگر یہ مقابلہ مباہلہ نہ کریں گے، پڑے گا۔منجملہ ان عذابوں کے ایک یہ عذاب تھا کہ سانپ کاٹے اور پھر وہ جانبر نہ ہو سکے۔مولوی رشید احمد گنگوہی متوفی کو سانپ نے کاٹا۔حالانکہ مولوی صاحب کو سانپ کے کاٹے کا علاج دعویٰ سے تھا اورسینکڑوں کوس تک ان کا پڑھا پانی جاتا تھا۔لیکن یہ عذابِ الٰہی تھا اور سانپ نہیں تھا۔بلکہ غلاظ شداد فرشتوں سے ایک فرشتہ تھا اور سانپ کے ڈسنے کے بعد تین چار روز تک زندہ بھی رہا۔لیکن اسی زہر سے مر گیا۔خدا تعالیٰ نے دکھا دیا کہ اب یہ مامور و مرسل کی مخالفت کا عذاب ٹل نہیں سکتا۔ان کے مرنے سے تین ماہ یا دو ماہ پیشتر مجھے ایک کشفی نظارہ میں دکھائی دیاکہ راستہ میں ایک مکان کوچھوڑ کر بُرے کپڑے پہنے ہوئے مولوی رشید احمد زمین پر لیٹ گئے ہیں۔میں نے یہ کشف حضرت اقد س علیہ السلام سے بیان کیا اور اس وقت حضرت فاضل امروہی بھی تشریف رکھتے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کی موت آگئی۔سو ایسا ہی واقعہ ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔٭…٭…٭