مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 453
ہے۔ان کی پیری پر آفت آتی ہے۔ان کو لکھو کہ مولوی صاحب آپ تو علم لدنی اورباطنی کے بھی مدعی ہیں۔اگر ظاہری علم آپ کا آپ کو مدد نہ دے، باطنی اورلدنی علم سے ہی کام لیں۔یہ کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔پس میں نے یہ تقریر حضرت اقدس علیہ السلام کی کچھ اور تیز الفاظ نمک مرچ لگا کے قلم بند کرکے مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔اس کے جواب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے یہ لکھا۔میںتقریری بحث کرنے کو تیار ہوں اور اگر مرزا صاحب تحریری بحث کرنا چاہیں تو ان کا اختیار ہے۔میں تحریری بحث نہیں کرتا۔لاہور سے بھی بہت لوگوں کی طرف سے ایک خط مباحثہ کے لئے آیا ہے۔مرزا صاحب چاہے تقریری بحث کرے۔جب کسی طرح مولوی صاحب کو مفرکی جگہ نہ رہی اور سراج الحق سے مخلصی نہ ہوئی اور لاہور کی ایک بڑی جماعت کا خط پہنچا اور ادھر حضرت اقدس کی خدمت میں بھی اس لاہور کی جماعت کی طرف سے مولوی رشید احمد کے مباحثہ کے لئے درخواست آ گئی اور اس جماعت نے یہ بھی لکھا کہ مکان مباحثہ کے لئے اور خورد و نوش کا سامان ہمارے ذمہ ہے اور میں نے بھی مولوی صاحب کو یہ لکھا کہ اگر آپ مباحثہ نہ کریں گے اور ٹال مٹال بتائیں گے اور کچے سچے عذروں سے جان چھڑا ویں گے تو تمام اخبارات میں آپ کے اور ہمارے خط چھپ کر شائع ہو جاویں گے۔پڑھنے والے نکال کر کے مطلب و مقصد اصلی حاصل کر لیں گے۔پھر دوسرے موقعہ پر حضرت اقدس نے فرمایا۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو ضرور لکھو اور حجت پوری کرو او ریہ لکھو کہ اچھا ہم بطریق تنزّل تقریری مباحثہ ہی منظور کرتے ہیں۔مگر اس شرط سے کہ آپ تقریر کرتے جاویں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر کو لکھتا جاوے اور جب ہم تقریر کریں تو ہماری جوابی تقریر کوبھی دوسرا شخص لکھتا جاوے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہو لے تو دوسرا فریق بالمقابل یا اور کوئی دورانِ تقریر میں نہ بولے۔پھر وہ دونوں تقریریں چھپ کر شائع ہو جاویں۔لیکن بحث مقام لاہور ہونی چاہئے۔کیونکر لاہور دارالعلوم ہے اور ہر علم کا آدمی وہاں موجود ہے۔میں نے یہی تقریر حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی مولوی صاحب کے پاس بھیج