مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 428
مکتوبات احمد ۴۲۸ جلد اول کون ہے۔ لیکن جہاں تک ہو سکے آپ مباہلہ کے لئے کاغذ استفتاء تیار کر کے مولوی صاحبین موصوفین کی مواہیر ثبت ہونے کے بعد وہ کاغذ میرے پاس بھیج دیں۔ اگر اس میں کچھ توقف کریں گے یا میاں عبد الحق چپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور واضح رہے اس خط کی چار نقلیں چار اخبار میں اور نیز رسالہ ازالہ اوہام میں چھاپ دی جائیں گی ۔ والسلام على من اتبع الهدى الراقم خاکسار یکم رجب ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۱ فروری ۱۸۹۱ء غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور حضرت مرزا صاحب بنام مولانا مولوی نور الدین صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل آپ کی خدمت میں مولوی عبد الجبار صاحب اور میاں عبد الحق صاحب کے خط روانہ کر چکا ہوں اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا کہ مولیٰ کریم اور سے ر چکا ہوں اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے میرا آقا و محسن عزاسمہ جل شانہ مجھے فتح و نصرت کی بشارت دیتا ہے اور ان لوگوں کے فیصلہ کیلئے مجھے ایک راہ بتاتا ہے جنہوں نے الہامات کا ادعا کر کے اس عاجز کو ضال ، ملحد اور جہنمی قرار دیا ہے اور جرات کر کے اس مضمون کو شائع بھی کر دیا۔ اور جو ان باتوں سے اپنے بھائی مسلمان کو آزار پہنچاتا ہے اور اس کی تذلیل ہوتی ہے اس کی کچھ بھی پر واہ نہیں کی اور طریق تقوی کی رعایت نہیں رکھی ۔ اس لئے یہ امر خدا تعالیٰ کی جناب میں کچھ سہل و آسان نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا تھا۔ سو مجھے خدا تعالیٰ کی نصرت کی خوشبو آرہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھے ایک ایسی راہ کی رہبری کرتا ہے جس سے جھوٹوں کا جھوٹ کھل جائے ۔ اگر یہ الزام صرف میری ذات تک محدود ہوتا تو دوسرا امر تھا لیکن اس کا بداثر ہزاروں الفضل ۹ جولائی ۱۹۴۳ ء صفحه ۳ تا ۵