مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 425
کررہی ہے۔اب وہ روح بہشت سے بموجب وعدہ الٰہی کے جو بہشتیوں کے لئے قرآن شریف میں موجود ہے، نکل نہیں سکتی اور نہ دو موتیں ان پر وارد ہو سکتی ہیں۔ایک موت جو اُن پر وارد ہوئی وہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے اور ہمارے اکثر مفسر بھی اس کے قائل ہیںاور ابن عباس کی حدیث سے بھی اس کا ثبوت ظاہر ہے اور انجیل میں بھی لکھا ہے اور نیز توریت میں بھی۔اب دوسری موت ان کے لئے تجویز کرنا خلافِ نص و حدیث ہے۔وجہ یہ کہ کسی جگہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دو مرتبہ مریں گے۔یہ تو میرے الہامات اور مکاشفات کا خلاصہ ہے جو میرے رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے اور ایسا ہی اس پر ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ کتاب اللہ پر۔اور اسی اقرار اور انہی لفظوں کے ساتھ میں مباہلہ بھی کروں گا اور جو لوگ اپنے شیطانی اوہام کو ربانی الہام قرار دے کر مجھے جہنمی اور ضال قرار دیتے ہیں۔ایسا ہی ان سے بھی ان کے الہامات کے بارہ میں اللہ شانہٗ کی حلف لوں گا کہ کہاں تک انہیں اپنے الہامات کی یقینی معرفت حاصل ہے۔مگر بہرحال مباہلہ کے لئے میں مستعد کھڑا ہوں، لیکن امور مفصلہ ذیل کا تصفیہ ہونا پہلے مقدم ہے۔اوّل یہ کہ چند مولوی صاحبان نامی جیسے مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اورمولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری بالاتفاق یہ فتویٰ لکھ دیں کہ ایسی جزئیات خفیفہ میںاگر الہامی یا اجتہادی طور پر اختلاف واقع ہو تو ا س کافیصلہ بذریعہ لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کو بد دعا دینے کے جس کا دوسرے لفظوں میں مباہلہ نام ہے، کرنا جائز ہے۔کیونکہ میرے خیال میں جزئی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کو لعنتوں کا نشانہ بنانا ہر گز جائز نہیں۔کیونکہ ایسے اختلافات اصحابوں میں ہی شروع ہو گئے تھے۔مثلاً حضرت ابن عباس محدّث کی وحی کو نبی کی وحی کی طرح قطعی سمجھتے تھے اور دوسرے ان کے مخالف بھی تھے۔ایسے ہی صاحب صحیح بخاری کا یہ عقیدہ تھا کہ کتب سابقہ یعنی توریت و انجیل وغیرہ محرف نہیں ہیں اور ان میں کچھ لفظی تحریف نہیں ہوئی۔حالانکہ یہ عقیدہ اجماع مسلمین کے مخالف ہے اور بایں ہمہ سخت مضر بھی ہے اور نیز بہ بداہت باطل۔ایسا ہی محی الدین ابن عربی رئیس المتصوّفین کا یہ عقیدہ ہے کہ فرعون دوزخی نہیں ہے اور نبوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو گا اور کفار کے لئے عذاب جاودانی