مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 426
نہیں اور مذہب وحدت الوجود کے بھی گویا وہی موجد ہیں۔پہلے ان سے کسی نے ایسی واشگاف کلام نہیں کی۔سو یہ چاروں عقیدے ان کے ایسا ہی اور بعض عقائد بھی اجماع کے برخلاف ہیں۔اسی طرح شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرّہٗ کا یہ عقیدہ ہے کہ اسماعیل ذبیح نہیں ہیں بلکہ اسحاق ذبیح ہے۔حالانکہ تمام مسلمانوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ ذبیح اسماعیل ہے اور عیدالاضحیٰ کے خطبہ میں اکثر مُلاّصاحبان رو رو کر انہی کا حال سنایا کرتے ہیں۔اسی طرح صدہا اختلافات گزشتہ علماء و فضلاء کے اقوال میں پائے جاتے ہیں۔اسی زمانہ میں بعض علماء مہدی موعود کے بارہ میں دوسرے علماء سے اختلاف رکھتے ہیں کہ وہ سب حدیثیں ضعیف ہیں۔غرض جزئیات کے جھگڑے ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔مثلاً یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا۔مگر امام حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان کی جماعت نے اس اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے اور بقول میاں عبدالحق اکیلے رہے حالانکہ حدیث صحیح میں ہے گو خلیفہ وقت فاسق ہی ہو بیعت کرلینی چاہئے اور تخلّف معصیت ہے۔پھر انہی حدیثوں پر نظر ڈال کر دیکھو جو مسیح کی پیشگوئی کے بارہ میں ہیں کہ کس قدر اختلافات سے بھری ہوئی ہیں۔مثلاً صاحب بخاری نے دمشق کی حدیث کو نہیں لیا اور اپنے سکوت سے ظاہر کر دیا کہ اس کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اور ابن ماجہ نے بجائے دمشق کے بیت المقدس لکھا ہے اور اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان بزرگوں نے باوجود ان اختلافات کثیرہ کے ایک دوسرے سے مباہلہ کی درخواست ہر گز نہیں کی اور ہرگز رو انہیں رکھا کہ ایک دوسرے پر لعنت کریں بلکہ بجائے لعنت کے یہ حدیث سناتے رہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ ۱؎ اب یہ نئی بات نکلی ہے کہ ایسے اختلافات کے وقت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں اور بد دعا اور گالی اور دُشنام کر کے فیصلہ کرنا چاہئے۔ہاں اگر کسی ایک شخص پر سراسر تہمت کی راہ سے کسی فسق اور معصیت کا الزام لگایا جاوے۔جیسا کہ مولوی اسماعیل صاحب ساکن علی گڑھ نے اس عاجز پر لگایا تھا کہ نجوم سے کام لیتے ہیں اور اس کانام الہام رکھتے ہیں تو مظلوم کو حق پہنچتا ہے کہ مباہلہ کی درخواست کرے۔مگر جزئی اختلافات میں ۱؎ کنزالعمال نمبر۲۶۸۶ جلد۱۰ الطبعۃالاولٰی ۱۹۷۱ء مکتبہ التراث الاسلامی حلب