مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 399

فرمایا ہے کہ خد اتعالیٰ نے اپنی وحی میں مجھے ایسے لفظوںسے بھی یاد فرمایا ہے کہ جن کی ہر شخص کو سننے اور سمجھنے کی برداشت نہیں ہوتی۔یہ وہی مقام ہے جس کومقامِ نبوت کہتے ہیں۔بہرحال اس مبسوط مکتوب کے بعد حاجی صاحب نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا جس کو ذیل میں درج کر دیتا ہوں جس میں انہوںنے اپنے اعتراضات کو واپس لے کر اظہار معذرت کیا۔اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ۔۱؎ (عرفانی کبیر) ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۵ مخدومی مکرمی اخویم حاجی محمدولی اللہ صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔عنایت نامہ کا جواب بھیجا گیا تھا مگر آج تک انتظار رہا کہ آپ کی طر ف سے کوئی جواب آوے تا پورا منشاء خط سابق میں کاظاہر کیا جاوے۔آخر جواب سے نا امید ہو کر خود اپنی طرف سے تحریک کی جاتی ہے کہ آں مخدوم کے خط سابق میں اس قدر حرارت اور تلخی بھری ہوئی تھی اور ایسے الفاظ درشت اور ناملائم تھے جن سے ببداہت یہ بُو آرہی تھی کہ آں مکرم کی بدظنی غایت درجہ کے فساد اور خرابی تک پہنچ گئی ہے۔اگر کتاب کی خریدوفروخت کا تعلق نہ ہوتا تو ہر گز امید نہ تھی کہ آپ کے قلم سے ایسے الفاظ نکلتے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ ایسے منحوس تعلق نے آپ جیسے بزرگ کی طبیعت کو آشفتہ کیا اور ابھی معلوم نہیں کہ آشفتگی اور پریشان باطنی کہاں تک منجر ہو۔اور اس عاجز کا حال یہ ہے کہ یہ تمام کاروبار بجز ذات باری عزّاسمہ کسی کے بھروسہ پر نہیں۔پس اس صورت میں قرین مصلحت ہے کہ فسخ بیع اوراستردا د قیمت مرسلہ سے آپ کی طبیعت کو ٹھنڈ اور آرام پہنچایا جاوے۔کیونکہ اس تمام اشتعال کا بجز اس کے اور کوئی موجب نظر نہیں آتا کہ چند درہم کی جدائی نے جو بہر صورت جُدا ہونے والے ہیں آپ کی طبیعت کو تردّد و تاسّف و پریشانی وحیرت میں ڈال دیا ہے۔توا سی ۱؎ ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر التوبۃ