مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 398
صدی کے لئے پید ا ہوتا ہے کہ جس میں سخت ضلالت پھیلتی ہے جیسے آج کل ہے۔(۷) حضرت مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات میں آپ ہی فرماتے ہیںکہ جو لوگ میرے بعد آنے والے ہیں جن پر حضرت احدیت کی خاص خاص عنایات ہیں میں ان سے افضل نہیں ہوں اور نہ وہ میرے پیرو ہیں۔سو یہ عاجز بیان کرتا ہے نہ فخر کے طریق پر بلکہ و اقعی طورپر شُکْرًا لِّنِعْمَۃِ اللّٰہِ کہ اس عاجز کو خد ا تعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت بخشی ہے کہ جو حضرت مجدد صاحب سے بھی بہتر ہیں اور مراتب اولیاء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے۔سو یہ عاجز مجدد صاحب کاپیرو نہیں ہے بلکہ براہِ راست اپنے نبی کریم کا پیرو ہے اور جیسا سمجھا گیا ہے۔بدل ِیقین سمجھتا ہے کہ ان سے اور ایسا ہی ان بہتوں سے کہ جو گزر چکے ہیں افضل ہے۔ ۱؎ (۸)خد اتعالیٰ کے کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے۔مجھ کو حضرت خد اوند کریم محض اپنے فضل سے صدیق کے لفظ سے یاد کرتا ہے اور نیز دوسرے ایسے لفظوں سے جن کے سننے کی آپ کو برداشت نہیں ہوگی اور حضرت خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معزز فرما کر اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ قُلْ اُرْسِلْتُ اِلَیْکُمْ اَجْمَعِیْنَ یہ بات بخوبی کھول دی ہے کہ اس ناکارہ کو تمام عالمین یعنی تمام روئے زمین کے باشندوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔پس سوال ہشتم کے جواب میں اسی قدر کافی ہے۔(۹) اس ناکارہ کے والد مرحوم کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔وہی ہیںجو حکیم حاذق تھے اور دنیوی وضع پر اس ملک کے گردو نواح میں مشہور بھی تھے۔٭ (۳۰؍دسمبر ۱۸۸۴) نوٹ:۔اس مکتوب سے واضح ہوتا ہے کہ ۲۳؍ دسمبر ۱۸۸۴ء کو جو مکتوب حضرت نے لکھا تھا اور جس میں اپنی ماموریت کا اعلان فرمایا تھا اس پر حاجی صاحب نے آٹھ سوال کئے اور آپ نے ان کے جوابات دئیے اور مامورانہ قوت اور دلیری سے اپنے مقام رفیع کا اظہار فرمایا۔حضرت اقدس نے اس امر کی طرف بھی اشارہ ۱؎ الجمعۃ: ۵ ٭ الحکم ۲۱، ۲۸ جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ۹،۱۰