مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 395

مکتوبات احمد ۳۹۵ جلد اول کارروائیوں پر ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ بد باطن اور نیک باطن کو خوب جانتا ہے۔ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ے اور اگر بقول آپ کے میں خراب اندروں ہوں اور کعبہ کو چھوڑ کر بت خانہ کو جا رہا ہوں تو وہ عالم الغیب ہے آپ سے بہتر مجھے جانتا ہوگا۔ لیکن اگر حال ایسا نہیں ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ روز مطالبہ اس بدظنی کا کیا جواب دیں گے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا وَالسَّلْمُ عَى مِّنِ اتَّبَعَ الْهُدَى دیا (۲۳ دسمبر ۱۸۸۴ء) نوٹ : ۔ اس مکتوب کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی صاحب کے خط کا اسلوب بیان کیا ہو گا مگر حضرت اقدس نے جس حوصلہ اور ہضم نفس سے اس کو پڑھا اور جواب ہے وہ آپ کے اخلاق فاضلہ کی رفعت و عظمت کا مظہر ہے اور آپ کو اپنی ماموریت پر کامل بصیرت کے ساتھ یقین ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت و کردار کے متعدد پہلو اس مکتوب کے آئینہ میں نظر آتے ہیں ۔ یہ یقین اور بصیرت کسی شخص کو میسر نہیں آسکتی جب تک وہ خدا تعالیٰ کی متواتر وحی سے تسلی نہ پاتا ہو ۔ ( عرفانی کبیر ) L ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ المؤمن : ۲۹ بنی اسراءیل : ۳۷