مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 392
خمکتوب نمبر ۲ الحمد للّٰہ وسَلٰمٌ علی عبادہ الذین اصْطَفٰی۔امابعد بخدمت مخدومی مکرمی اخویم محمد ولی اللہ صاحب! بعد سلام مسنون گذارش آنکہ آپ کا عنایت نامہ مرقوم ۱۱؍ ذیقعدہ جس کے لفافہ پر اس عاجز کا نام لکھا ہوا تھا پہنچا۔معلوم ہوتا ہے کہ سلطان احمد اس عاجز کے بیٹے نے آپ کی خدمت میں کوئی خط بھیجا تھا جس کی اس عاجز کو کوئی اطلاع نہیں ہے۔مگر افسوس سے لکھتا ہوں کہ اگر اس نے آپ کی طرف کسی چندہ کے بارہ میں لکھا ہے تو آپ کو ناحق تکلیف دی۔وہ اس وقت یہاں قادیان میں موجود نہیں ہے گورداسپور گیا ہوا ہے۔مقصود مکتوب الدّین النصیحۃ بہرحال اب باعث تحریران چند سطور کا صرف برادرانہ نصیحت ہے کہ الدّین النصیحۃ اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسا آپ کا خط پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایسے امور میں وساوس پکڑ رہے ہیں کہ جن پر سُوء ظن مضر ایمان ہے اور نَعُوْذُ بِاللّٰہِ رفتہ رفتہ سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے کیونکہ ایک ادنیٰ امر دینی کے انکار سے ایمان ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔پھر اس صورت میں ایمان کا کیا حال ہو کہ ایک بڑے اصول دینی کا انکار کیا جائے اور وہ اصول یہ ہے کہ پہلی اُمتوں میں دین کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک نبی کے بعد بروقت ضرورت دوسرا نبی آتا تھا۔پھر جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظہور فرما ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اس نبی کریم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا تو بوجہ ختم نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ و غم رہتا تھا کہ مجھ سے پہلے دین کے قائم رکھنے کے لئے ہزار ہا نبیوں کی ضرورت ہوئی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں جس سے روحانی طور پر تسلّی حاصل ہو۔اس حالت میں فسادات کا اندیشہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بہت دعائیں کیں تب خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبشارت دی اور وعدہ فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر دین کی تجدید کے لئے مجدّد پیدا ہوتا رہے گا جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ دین کی تجدید کرے گا اور فرمایا ۱؎ یعنی ہم آپ قرآن شریف ۱؎ الحجر: ۱۰