مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 391
براہین کے ابتدائی دور میں خود حضرت کو مجدّد تسلیم کرتے تھے۔اس خصوص میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی شہادت میںنے حیاتِ احمد جلد دوم نمبر دوم کے صفحہ (۸۲) پر درج کی ہے۔اس خط و کتابت کے پڑھنے سے (جو حاجی صاحب اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی) معلوم ہوتا ہے کہ ابتداً حاجی صاحب کو بعض حالات اور اثرات کے ماتحت کچھ قبض ہوا اور اس کااظہار انہوں نے اپنے کسی خط میں کیا جس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۲۳؍ دسمبر ۱۸۸۴ء کو دیا۔اور پھر اس خط کے بعد حاجی صاحب نے کچھ سوالات کئے جن کا جواب حضرت نے ۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۴ء کے مکتوب میں تحریر فرمایا۔اس کے بعد ۲۴؍ جنوری ۱۸۸۵ء کوحاجی صاحب نے ایک تفصیلی خط حضرت کی خدمت میں لکھا جس سے پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت اقدس کو احیاء اسلام کا ذریعہ سمجھتے تھے اورہندوستان ہی میں آپ کی بعثت کو ضروری سمجھتے تھے۔میں حاجی صاحب کے اس خط کو حضرت اقدس کے دوسرے مکتوب کے بعد درج کردینا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ تاریخ سلسلہ میں حاجی صاحب کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ رہے۔میں نے حیاتِ احمد جلد دوم کے نمبر دوم میں بھی آپ کا ذکر کیا ہے اور اس سے مقصد صرف اسی قدر امر واقعہ کا اظہار ہے جو اس مکتوب سے متعلق ہے جو انہوں نے براہین کے سلسلہ میں حضرت کو لکھا اورجس کا جواب ۲۳؍ دسمبر ۱۸۸۴ء کے خط میں موجود ہے اب میں کسی مزید تفصیل کے بغیر مکتوبات کو درج کرتا ہوں۔(عرفانی کبیر)