مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 390
پڑھتے اور سنتے تھے مگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی البتہ ان کے ذریعہ سے حضرت اقدس کی دعوت کپور تھلہ پہنچی اور ان کے خاندان میں ایک مخلص شاخ حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان کی بار آور ہوئی۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب، حاجی صاحب کی وفات کے بعد جائز وارث اور ان کے جانشین تجویز ہوئے اور اس کااعلان اس زمانہ کے عام رواج دستاربندی سے کیا گیا۔حاجی صاحب کومیں مخالفین کے زُمرہ میں نہیں سمجھتا۔ہاں عملاً وہ سلسلہ بیعت میںبھی شریک نہ ہوسکے۔براہین ہی کے زمانہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کچھ سوالات کئے۔جن کے جواب میں حضرت نے آپ کوخط لکھا۔حاجی صاحب کے ذریعہ جماعت کپور تھلہ (اس لئے کہ براہین، کپور تھلہ میں ان کے ذریعہ پہنچی) کا قیام عمل میں آیا اور یہ جماعت اپنے اخلاص و وفا میں ایک ایسی جماعت گزری ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ساتھ جنت میں رہنے کی بشارت دی۔(رضی اللہ عنہم) حاجی صاحب کی تعمیر کردہ مسجد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کاایک زندہ نشان ہے۔غیر احمدی اس مسجد کو لینا چاہتے تھے اور اس کامقدمہ عرصہ تک چلتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جماعت کو بشارت دی کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تم کو ملے گی۔آخر وہی ہوا۔یہاں تک کہ ایک حاکم عدالت جو احمدیوں کے خلاف اپنے دل میں فیصلہ کرچکا تھا قبل اس کے فیصلہ سنائے اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آکر فوت ہو گیا۔حاجی صاحب کے یہ کام اپنی جگہ ایک وزن رکھتے ہیں مگر حضرت اقدس کے ابتدائی زمانہ کے بعض معاونین کو سنت اللہ کے موافق ابتلا آیا اوریہ اس لئے بھی ہوا تا خدا تعالیٰ کی قدرت نمایاں ہو۔حاجی صاحب نے براہین کے التوا کے متعلق اعتراضات کئے اورادب کے مقام سے ہٹ کر وہی غلطی ان کے سامنے آگئی اوروہ اس نعمت کی قدر نہ کر سکے۔اب ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔وہ مکفرّین اور سبّ وشتم کرنے والوں میں نہ تھے۔ان کوایک وقت حجاب ہوا ور نہ