مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 389

حاجی محمد ولی اللہ صاحب (تعارفی نوٹ) حاجی محمدولی اللہ صاحب ریاست کپور تھلہ کے ایک معزز عہدہ دار تھے۔اپنی سمجھ اور فکر کے موافق اس عہد کے دیندار مسلمانوں میں آپ کا شمار تھا۔وہ ابتداً سرکارانگریزی میں ملازم تھے۔مگر جب بندوبست کا آغاز پنجاب میں ہوا تو ریاست کپور تھلہ کے مہاراجہ نے آپ کی خدمات کو مستعار لے لیا اور پھر مستقل طور پر اپنی ریاست میں رکھا۔وہ صاف گو اور دلیر عہدہ دار تھے۔ریاستی پالیٹکس کے قابل نہ تھے۔اس لئے وہ ریاست کے وزیراعظم تو نہ ہو سکے مگر یہ واقعہ ہے کہ وزیراعظم تک ان سے دبتے تھے۔حاجی صاحب کاخاندان ضلع میرٹھ کا ایک معزز خاندان تھا اور ایک مدبّر اور علم دوست خاندان سمجھا جاتا تھا۔حاجی صاحب اگرچہ خود احمدی نہ ہوسکے مگر یہ واقعہ ہے کہ کپور تھلہ کی جماعت کا باعث وہی ہوئے اور ان کے خاندان میں حضرت منشی حبیب الرحمن رضی اللہ عنہ اور ان سے تعلق رکھنے والے حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ، حاجی صاحب کے ہی ذریعہ سے سلسلہ میں آئے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب تو آپ کے بھتیجے اور وارث ہی تھے۔حاجی صاحب براہین احمدیہ کے خریدار تھے اور اس کے حصص آپ کے پاس جارہے تھے۔وہ خود بھی پڑھا کرتے تھے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو بھی سنانے کے لئے فرمایا کرتے اور حضرت ظفر نے عین عنفوان شباب میں ہی براہین احمدیہ حاجی صاحب کو سناتے اس نعمت کو پالیا۔میری تحقیقات میں منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلہ کے آدم ہیں۔غرض حاجی صاحب براہین احمدیہ کے خریدار تھے اور شوق ذوق سے اسے