مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 385

مکتوبات احمد ۳۸۵ جلد اول کچھ کالا ہے۔ برادرم! آپ ناراض نہ ہو جائیں کہ یہ کلمہ کفر سے کچھ کم نہیں ۔ کاش اگر آپ کو کچھ سمجھ ہوتی کسی مومن کی نسبت ایسے ایسے وجوہات سے کفر یا شرک یا فسق اور افترا کا یقین کرنا اور یہ کہنا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے، پر ہیز گار اور نیک شعار اور نیک طبیعت مسلمانوں کا ہرگز طریق نہیں ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ نہ معلوم کہ آپ اور آپ کے بزرگوار کہاں سے اور کس سے سُن آئے کہ جو صورت مثالی خواب یا کشف میں مشہود ہو وہی صورت حقیقت مقصودہ ہوتی ہے۔ کیونکہ آج تک تمام معبرین کا اسی پر اتفاق ہے کہ ہر ایک نوع رویا اور کشوف میں اکثری اصول یہی ہے کہ جو امور صور حسیہ اور مثالیہ میں ظاہر ہوتے ہیں وہ اپنی ظاہری شکل پر حمل نہیں کئے جاتے ۔ کیونکہ وہ تمام معانی ہیں جن کو ان صورتوں سے بوجہ من الوجوه مناسبت ہے اور یہ مناسبت ہے کہ جو صرف بوجہ اعتقاد رائی قوت متخلیہ میں پیدا ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص اپنے دشمن کو سانپ کی صورت میں دیکھتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ سانپ کی صفات ذمیمہ فی الحقیقت اس دشمن میں موجود ہیں ۔ بلکہ ممکن ہے کہ دشمن اپنی ذاتی حالت کی رو سے پارسا اور نیک آدمی ہو اور صرف رائی کے خبث اعتقاد نے سانپ کی صورت پر اس کو کر دیا ہو۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو معانی صور مثالیہ میں مشتمل ہو کر قوت متخیلہ پر ظاہر ہوتے ہیں وہ شخص رائی کی خود اپنی ہی حالت ہوتی ہے اور جو خبث اور فساد کی کسی دوسرے کی نسبت وہ رائی دیکھتا ہے۔ حقیقت میں وہ تمام خبث اور فساد اس کے اپنے ہی نفس میں بھرا ہوا ہے اور شخص مرئی جو کامل اور آئینہ صفت ہوتا ہے ، وہ آئینہ کی طرح وہ خبث اس پر ظاہر کر دیتا ہے ۔ مثلاً ایک شخص کہ جو نہایت بد شکل ہے جب وہ اپنی صورت آئینہ میں دیکھے گا تو ضرور اس کی شکل کا عکس آئینہ میں پڑے گا ۔ اب یہ بات نہیں کہ آئینہ بد شکل ہے بلکہ ۔ باعث نہایت صفائی کے اس میں انعکاس بدشکلی کا ہو گیا ہے۔ اسی جہت سے محققین علم تعبیر لکھتے ہیں کہ جو لوگ فانی ہیں وہ باعث آئینہ صفت ہونے کے محل انعکاسی صفات ہو جایا کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے قدیم سے یہ تحریر ہوتا چلا آیا ہے کہ اکثر كَفَرَہ فَجَرَہ نے یا ایسوں نے جن کا خاتمہ بدتھا انبیاء اور اولیاء کو خراب اور فاسد حالتوں میں دیکھا ہے اور آخر انجام ایسے لوگوں کا ا البقرة : 9