مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 372

ڈپٹی کمشنر بہادر کے رُوبروے کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر بے اختیاری کے عالَم میں اپنی طمع خام کو ظاہر کیااور نہ چاہا کہ میرا دشمن کرسی پر ہو اور میں زمین پر بیٹھوں۔اس لئے بڑے جوش سے کچہری کے اندر داخل ہوتے ہی کرسی کی درخواست کی اور چونکہ عدالت میں نہ اس کو اور نہ اُس کے باپ کو کرسی ملتی تھی اس لئے وہ درخواست زجر اور تو بیخ کے ساتھ رد کی گئی اور درحقیقت یہ سوال نہایت قابل شرم تھا کیونکہ سچ یہی ہے کہ نہ یہ شخص اور نہ اُس کا باپ رحیم بخش کبھی رئیسان کرسی نشین میں شمار کئے گئے اور اگر یہ یا اس کا باپ کرسی نشین تھے تو گویا سرلیپل گریفن نے بہت بڑی غلطی کی کہ جو اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان دونوں کا نام نہیں لکھا۔غضب کی بات ہے کہ کہلانا مولوی اور اس قدر فاش دروغگوئی اور پھر آپ اپنے خط میں کرسی نہ ملنے کا مجھ سے ثبوت مانگتے ہیں۔گویا اپنی ذلّت کو کامل طور پر تمام لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کاذب نکلیں تو اپنے تئیں شکست یافتہ تصور کریں گے اور پھر کبھی ردّ و قدح نہیں کریں گے۔افسوس! کہ اس شخص کو جھوٹ بولتے ذرّہ شرم نہیں آئی۔جھوٹ کہ اکبر الکبائر اور تمام گناہوں کی ماں ہے کس طرح دلیری سے اس شخص نے اس پر زور دیا ہے۔یہی دیانت اور امانت ان لوگوںکی ہے جس سے مجھے اور میری جماعت کو کافر ٹھہرایا اور دنیا میں شور مچایا۔واضح رہے کہ ہمارے بیان مذکورہ بالا کا گواہ کوئی ایک دو آدمی نہیں بلکہ اس وقت کہ کچہری کے اردگرد صدہا آدمی موجود تھے جو کرسی کے معاملہ کی اطلاع رکھتے ہیں۔صاحب ڈپٹی کمشنر ایم ڈبلیوڈگلس صاحب بہادر خود اس بات کے گواہ ہیں جنہوں نے بار بار کہا کہ تجھے کرسی نہیں ملے گی۔بک بک مت کر اور پھر کپتان لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ اس بات کے گواہ ہیں کہ کرسی مانگنے پر محمد حسین کو کیا جواب ملا تھا اور کیسی عزت کی گئی تھی۔پھر منشی غلام حیدر خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ ضلع جو اب تحصیلدار ہیں اور مولوی فضل دین صاحب پلیڈر اور لالہ رام بھج دت صاحب وکیل اور ڈاکٹرکلارک صاحب جن کی طرف سے یہ حضرت گواہ ہوکر گئے تھے اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے تمام اَردلی۔یہ سب میرے بیان مذکورہ بالا کے گواہ ہیں اور اگر کوئی شخص اُن میں سے محمد حسین کی حالت پر رحم کر کے اس کی پردہ پوشی بھی چاہے مگر میں خوب جانتا ہوں کہ کوئی شخص اس بات پر قسم نہیں کھا سکے گا کہ یہ واقعہ کرسی نہ ملنے اور جھڑکیاں دینے کا جھوٹ ہے۔مجھے حیرت پر حیرت