مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 371

خمکتوب نمبر ۲۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ کیا محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں کرسی ملی؟ (راستی موجب رضائے خدا است) نہایت افسوس ہے کہ اس زمانہ کے بعض نام کے مولوی محض اپنی عزت بنانے کے لئے یا کسی اور غرض نفسانی کی وجہ سے عمداً جھوٹ بولتے ہیں اور اس بدنمونہ سے عوام کو طرح طرح کے معاصی کی جرأت دیتے ہیں کیونکہ جھوٹ اُم الخبائث ہے اور جب کہ ایک شخص مولوی کہلا کر کھلی کھلی بے شرمی سے جھوٹ بولنا اختیار کرے تو بتلاؤ کہ عوام پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ابھی کل کی بات ہے کہ بے چارہ میاں شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کو بمقام بٹالہ کرسی مانگنے سے کپتان ایم ڈبلیوڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے تین مرتبہ تین جھڑکیاں دیں اور کرسی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ’’بک بک مت کر‘‘ اور ’’پیچھے ہٹ‘‘ اور ’’سیدھا کھڑا ہو جا‘‘۔اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ہمارے پاس تمہارے کرسی ملنے کے بارے میں کوئی ھدایت نہیں‘‘ لیکن نہایت افسوس ہے کہ شیخ مذکور نے جابجا کرسی کے بارے میں جھوٹ بولا۔کہیں تو یہ مشہور کیا کہ مجھے کرسی ملی تھی اور کسی جگہ یہ کہا کہ کرسی دیتے تھے مگر میں نے عمدًا نہیں لی اور کسی جگہ یہ افترا کیا کہ عدالت میں کرسی کا ذکر ہی نہیں آیا۔چنانچہ آج میری طرف بھی اس مضمون کا خط بھیجا ہے کہ گویا اس کا کرسی مانگنا اور کرسی نہ ملنا اور بجائے اس کے چند جھڑکیوں سے پیچھے ہٹا ئے جانا یہ باتیں غلط ہیں۔ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علیالکاذبین۔ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ شیخ مذکور نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی مانگی تھی اور اس کا اصل سبب یہی تھا کہ مجھے اُس نے صاحب