مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 351
مکتوبات احمد ۳۵۱ جلد اول واپس بھی کر دیا ۔ قرآن کریم جس کی خلق اللہ کو بہت ضرورت تھی اور جو لوح محفوظ میں قدیم سے جمع تھا ۔ تئیس سال میں نازل ہوا اور آپ جیسے بدظنیوں کے مارے ہوئے اعتراض کرتے رہے ۔ کہ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً قولہ: جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی مشتہر کیا ہے اس دن سے آپ کی کوئی تحریر، کوئی تقریر، کوئی خط ، کوئی تصنیف جھوٹ سے خالی نہیں ۔ اقول: اے شیخ نامہ سیاہ ! اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اور کیا لکھوں۔ خدا تعالیٰ تجھ کو آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا۔ اے بد قسمت انسان! تو ان بہتانوں کے سا ساتھ کب تک جئے گا ۔ کب تک تو اس لڑائی میں جو خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے، موت سے بچتا رہے گا۔ اگر مجھ کو تُو نے یا کسی نے اپنی نابینائی سے دروغ گو سمجھا تو یہ کچھ نئی بات نہیں ۔ آپ کے ہم خصلت ابو جہل اور ابولہب بھی خدا تعالیٰ کے نبی صادق کو کذاب جانتے تھے۔ انسان جب فرط تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے تو صادق کی ہر ایک بات اس کو کذب ہی معلوم ہوتی ہے لیکن خدائے تعالیٰ صادق کا انجام بخیر کرتا ہے اور کاذب کے نقش ہستی کو مٹا دیتا ہے ۔ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ لَ قوله : ( آپ نے ) بحث سے گریز کر کے انواع اتہام اور ا کا ذیب کا اشتہار دیا۔ اقول : یہ سب آپ کے دروغ بے فروغ ہیں جو بباعث تقاضائے فطرت بے اختیار آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں ورنہ جو لوگ میری اور آپ کی تحریروں کو غور سے دیکھتے ہیں وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا اتہام اور کذب اور گریز اس عاجز کا خاصہ ہے یا خود آپ ہی کا۔ چالا کی کی باتیں اگر آپ نہ کریں تو اور کون کرے ۔ ایک تو قانون گوشیخ ہوئے دوسرے، چار حرف پڑھنے کا دماغ میں کیڑا ۔ مگر خوب یا د رکھو وہ دن آتا ہے کہ خود خدا وند تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں سے کون کا ذب اور مفتری اور خدا تعالیٰ کی نظر میں ذلیل اور رُسوا ہے اور کس کی خداوند کریم آسمانی تائیدات سے عزت ظاہر کرتا ہے ۔ ذرہ صبر کرو اور انجام کو دیکھو ۔ قولہ: آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے آپ کے دعویٰ مسیحائی سے اپنا خلاف ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے ۔ ا الفرقان: ۳۳ النحل: ۱۲۹