مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 350

مکتوبات احمد ۳۵۰ جلد اول کے والد صاحب ، جن کے بعض خطوط آپ کی فطرت اور آپ کے اوصاف حمیدہ کے متعلق پاس بھی غالباً کسی بستہ میں پڑے ہوئے ہونگے ، بزبان خود مشہور کر گئے ہیں ۔ اے نیک بخت ! اول ثابت تو کیا ہوتا کہ فلاں فلاں شخص کے روبرو اس عاجز نے کبھی جھوٹ بولا تھا۔ اپنے التزام صدق کی جو میں نے نظیر یں پیش کی ہیں ان کے مقابل پر بھلا کوئی نظیر پیش کرو تا آپ کا منہ اس لائق ٹھہرے کہ آپ اس شخص کی نکتہ چینی کر سکو جو سخت امتحان کے وقت صادق نکلا اور صدق کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ میں حیران ہوں کا ہوں کہ کونسا جن آپ کے سر پر سوار ہے جو آپ کی پردہ دری کرا رہا ہے ۔ آخر میں یہ بھی آپ کو یادر ہے کہ یہ آپ کا سرا سر افتراء ہے کہ الہام كَلْبٌ يَمُوتُ عَلَى كَلْبِ کو اپنے اوپر وارد کر رہے ہیں۔ میں نے ہرگز کسی کے پاس یہ نہیں کہا کہ اس کا مصداق آپ ہیں اور جو بعض درشت کلمات کی آپ شکایت کرتے ہیں ، یہ بھی بے جا ہے ۔ آپ کی سخت بد زبانیوں کے جواب میں آپ کے کافر ٹھہرانے کے بعد ، آپ کے دجال اور شیطان اور کذاب کہنے کے بعد اگر ہم نے آپ کی موجودہ حالت کے مناسب آپ کو کچھ حق حق کہہ دیا تو کیا بُرا کیا آخر وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ " کا بھی تو ایک وقت ہے ۔ آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کی فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لے کر خورد برد کر گیا ہے یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں ۔ اگر براہین طبع ہو کر شائع ہوگئی تو کیا ہوکر اس دن شرم کا تقاضا نہیں ہو گا کہ آپ غرق ہو جائیں؟ ہر یک دیر بدظنی پر مبنی نہیں ہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر یک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ نوٹ : آپ کو اس عاجز کے وہ احسانات بھول گئے جبکہ میں آپ کے والد صاحب کو آپ کی پردہ دری سے روکتا رہا۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں نے اُس سچے الزام کو کبھی پسند نہیں کیا جو آپ کے والد صاحب آپ کی نسبت اخباروں میں شائع کرانا چاہتے تھے اور میں آپ کی پردہ پوشی اور صفوت فطرت کا ہمیشہ حامی رہا اور انہیں روکتا رہا۔ لیکن میرے احسان کا آپ نے یہ بدلہ دیا کہ میں نے تو سچے الزاموں سے آپ کو بچایا مگر آپ نے بحسب تقاضائے فطرت مبارکہ دروغ گوئی کا الزام میرے پر لگایا ۔ اب مجھے یقین ہوا کہ آپ کے والد صاحب بے شک سچے تھے ۔ منہ ا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۱۴۵ التوبة: ٧٣